Back

ⓘ مقالہ جات - ریاضیاتی دالہ جات, تصانیف و مقالات محمد حمید اللہ, مقالہ, قاضی عنایت جلیل عنبر, تاریخ فرشتہ, بادشاہ منیر بخاری, حیات, مقالہ ثانی, سید منور ہاشمی ..




                                               

ریاضیاتی دالہ جات

ریاضیات میں بہت سی دالہ یا فنکشن کے گروہ کافی اہم ہیں کہ ان کو اپنے ناموں سے نوازا گیا ہے۔ یہاں ان مقالہ جات کی فہرست اکٹھی کی گئی ہے جن میں ان فنکشنات کا تفصیلی بیان ہے۔ ایسی خاص دالہ کا نظریہ موجود ہے جو احصاء اور طبیعیاتی تحلیل سے آئیں۔

                                               

تصانیف و مقالات محمد حمید اللہ

ڈاکٹر محمد حمید اللہ معروف محدث، فقیہ، محقق، قانون دان اور اسلامی دانشور تھے اور بین الاقوامی قوانین کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ تاریخ حدیث پر اعلٰی تحقیق، فرانسیسی میں ترجمہ قرآن اور مغرب کے قلب میں ترویج اسلام کا اہم فریضہ نبھانے پر آپ کو عالمگیر شہرت ملی۔ اُن کی تصانیف و مقالہ جات اور مضامین کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔

                                               

مقالہ

مقالہ یا تحریر ، عربی،اردو اور پشتو زبان کا لفظ ہے جو انگریزی لفظ مضمون کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ زبان کو مختلف علامتوں اور رموز کے ذریعے لکھنے کو تحریر کہتے ہیں۔ تحریر ایک مکتوب ہوتا ہے، جیسے ویکیپیڈیا میں ہزاروں تحریریں موجود ہیں۔ تحریر میں بہت سی اقسام مضمون یا مضمونی تحریر ،سکول تحریر، بیانیہ تحریر وغیرہ۔

                                               

قاضی عنایت جلیل عنبر

قاضی عنایت جلیل عنبر کی پیدائش5 اپریل 1969 کو واشیچ، تورکھو، ضلع چترال میں ہوئی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے حاصل کی اور ایم-اے پولیٹیکل سائنس کی ڈگری پشاور یونیورسٹی سے حاصل کی۔

                                               

تاریخ فرشتہ

یہ تاریخ ہندوستان کی قدیمی تاریخ سے شروع ہوتی ہے اور اِس کے واقعات کا اختتام 1015ھ مطابق 1606ء پر ہوتا ہے۔ یہ تاریخ محمد قاسم فرشتہ نے ابراہیم عادل شاہ ثانی، سلطانِ بیجاپور متوفی 1627ء کے حکم سے لکھنی شروع کی اور 1015ھ مطابق 1606ء پر اِس تاریخ کے واقعات کا اِختتام ہوا۔ محمد قاسم فرشتہ نے اِسے گلشن ابراہیمی کا نام دیا مگر عوام میں یہ تاریخ فرشتہ کے نام سے مشہور ہوئی۔

                                               

بادشاہ منیر بخاری

بادشاہ منیر بخاری پاکستان اور افغانستان کی زبانوں کے ماہرِ لسانیات ہیں۔ ان کی لسانی موضوعات پر کتابیں چھپ چکی ہیں۔ ۔ اسی سال اس گروپ نے لسٹ میں سترہ نئی زبانیں شامل کیں جو عنقریب معدوم ہونی والی ہیں ۔ عالمگیریت اور جدید ادبی رجحانات باڑہ گلی 2005، زیر انتظام شعبہ اردو جامعہ پشاور مقالہ کا عنوان: عالمگیریت اور اردو ادب معیار تعلیم میں بہتری کانفرنس باڑہ گلی، ایج ای سی مقالہ کاعنوان: مادری زبان کی تعلیم پاکستان کی قومی اور علاقائی زبانوں پر فارسی کا اثر 2003، زیر انتظام خانہ فرہنگ ایران پشاور مقالہ کا عنوان: کھوار پر فارسی کا اثر دنیا کی قدیم زبانیں کانفرنس پیرس 2006 زیر انتطام ورلڈ لنگویجز ...

                                               

حیات (مقالہ ثانی)

زندگی کیا ہے؟ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، حیات کی مختلف انداز میں تعریف کرتے ہیں جو اس مضمون میں مختصرا درج تو کی جائیں گی مگر اصل میں اس مضمون کا متن زندگی کی سائنسی توجیہ یا بالفاظ دیگر یوں کہہ لیں کہ اس کی حیاتیاتی اور طبی نقطہ نظر سے وضاحت تک محدود رہے گا۔

                                               

سید منور ہاشمی

سید منور ہاشمی یکم جنوری 1957ء کو ساہیوال، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام عبد الطیف شاہ تھا۔ منور ہاشمی نے ایم اے اردو ملتان یونیورسٹی سے اور پی ایچ ڈی اردو ادب کی سند سندھ یونیورسٹی سے حاصل کی۔ ان کے تحقیقی مقالہ کا موضوع تھا اقبال کی اردو شاعری میں فطرت نگاری ۔ نیز ڈاکٹر منور ہاشمی نے بی ایڈ کی بھی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے۔ وہ شعبۂ صحافت و ادب کے ساتھ شعبۂ تعلیم میں بھی وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ تقریباً 24 سال سے شعبۂ تدریس سے وابستہ ہیں اور آج کل نادرن یونیورسٹی نوشہرہ میں پروفیسر شعبۂ اردو کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ نہ صرف اقبالیات اور اردو ادب کے لیے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے م ...

                                     

ⓘ مقالہ جات

  • فنکشن کے گروہ کافی اہم ہیں کہ ان کو اپنے ناموں سے نوازا گیا ہے یہاں ان مقالہ جات کی فہرست اکٹھی کی گئی ہے جن میں ان فنکشنات کا تفصیلی بیان ہے ایسی خاص
  • اسلام کا اہم فریضہ نبھانے پر آپ کو عالمگیر شہرت ملی ا ن کی تصانیف و مقالہ جات اور مضامین کی تعداد سینکڑوں میں ہے مجموعة الوثائق السیاسیة للعهد النبوی
  • معلومات کے حوالہ جات اور تفصیلات صوبوں کے انفرادی مقالہ جات میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں آیزو 3166 - 2: AF ISO 3166 - 2 رمز برائے افغان صوبہ جات صوبائی ترقیات
  • یہ فہرست ان شخصیات کی ہے جن کے فن اور خدمات پرتحقیقی مقالہ جات لکھے گئے ہیں خالد سہیل سلطانہ مہر مصنفہ سید مجتبی حسین سید منور ہاشمی صفدر حسین مصنف
  • جریدہ سائنٹیفک امریکن میں شائع ہونے والا مارٹن اور فجی کاوا کا تحقیقی مقالہ قرآن میں متعدد آیات میں زندگی کی بناوٹ میں مٹی اور پانی کے شامل ہونے کا
  • مشہور ہوئے کہ وزراء کی رتبہ پر جا پہنچے اور خلیفہ نے انہیں اپنے مال اور خواص کا رازدان بنایا کتب اور مقالہ جات میں ان کی تصانیف کوئی چالیس کے قریب ہیں
  • مقالہ یا تحریر عربی اردو اور پشتو زبان کا لفظ ہے جو انگریزی لفظ مضمون کے لیے استعمال ہوتا ہے زبان کو مختلف علامتوں اور رموز جسے تحریری نظام کہتے ہیں
  • مقدمہ بارہ مقالہ جات اور ایک خاتمہ یعنی ضمیمہ پر تقسیم کیا ہے مقدمہ میں راجگان ہنود ہندوستان میں ظہور اسلام کی کیفیات پر تاریخ لکھی ہے مقالہ اول میں
  • پشاور مقالہ کا عنوان: عالمگیریت اور اردو ادب زبانیں کیوں مر رہی ہیں گلگت 2005 زیر انتظام فرانٹئیر لنگویجز اکیڈمی مقالہ کا عنوان: شمالی علاقہ جات کی زبانیں
افغانستان کے صوبے
                                               

افغانستان کے صوبے

افغانستان کے صوبے ملک کی انتظامی تقسیم کا اہم جزو ہیں۔ اس وقت ملک کے کل صوبوں کی تعداد 34 ہے۔ ہر ضلع مزید چھوٹی اکائی ضلع میں تقسیم ہے۔ ہر صوبے کی قیادت گورنر کرتا ہے۔

                                               

شخصیات برائے تحقیقی مقالات کی فہرست

یہ فہرست ان شخصیات کی ہے جن کے فن اور خدمات پرتحقیقی مقالہ جات لکھے گئے ہیں ۔ خالد سہیل سلطانہ مہر مصنفہ سید مجتبیٰ حسین سید منور ہاشمی صفدر حسین مصنف صفدر ہمدانی عبادت بریلوی مرزا قلیچ بیگ

                                               

ابن توما

امین الدولہ ابو الکرم صاعد بن ہبہ اللہ بن توما ، مشہور طبیب تھے، الناصر لدین اللہ کی خدمت میں داخل ہوئے، ابنِ العبری لکھتے ہیں:" وہ فاضل تھے اور حسنِ علاج سے مشہور تھے، امراض کی درست پہچان ان کا خاصہ تھا، صاحبِ مروت تھے، ان کا ہاتھوں بہت سوں کی حاجات پوری ہوئیں، خلیفہ الناصر کے دنوں میں اس قدر مشہور ہوئے کہ وزراء کی رتبہ پر جا پہنچے اور خلیفہ نے انہیں اپنے مال اور خواص کا رازدان بنایا” کتب اور مقالہ جات میں ان کی تصانیف کوئی چالیس کے قریب ہیں.

نمایۂ صارف
                                               

نمایۂ صارف

یہ مقالہ شمارندکاری سے متعلق ہے۔ نمایہ کے دیگر استعمالات کے لیے دیکھیے: نمایہ نُمایۂ صارف User profile نُمایہ صارف ، صارف نُمایہ ، صارفی نُمایہ ، صارف نُما یا صرف نمایہ دراصل کسی مخصوص صارف سے ملحق ذاتی معلومات کے مجموعے کو کہاجاتا ہے۔ لہٰذا نمایۂ صارف سے مراد کسی شخص کی شناخت کی رقمی نمائندگی digital representation ہوتی ہے۔ دیگر متعلقہ الفاظ: نمایہ جات / نمایات: profiles نمایہ سازی: profiling نمایہ ساز: profiler