Back

ⓘ فرصت - فرصت, نظم, تفریح, تسبیح, آگرہ, حسن نظامی, گیس, دمڑی, سید انوار گیلانی, چناب کلب, م سے اردو محاورے, کنور مہندر سنگھ بیدی ..




                                               

فرصت (نظم)

نظم کا انگریزی متن یہ ہے: What is this life if, full of care, We have no time to stand and stare. No time to stand beneath the boughs And stare as long as sheep or cows. No time to see, when woods we pass, Where squirrels hide their nuts in grass. No time to see, in broad daylight, Streams full of stars, like skies at night. No time to turn at Beautys glance, And watch her feet, how they can dance. No time to wait till her mouth can Enrich that smile her eyes began. A poor life this if, full of care, We have no time to stand and stare.

                                               

تفریح

تفریح سے مُراد کوئی بھی ایسی سرگرمی ہے جو لوگوں کو فرصت کے اوقات میں اپنے آپ کو محظوظ یا مسرور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ تفریح عموماً ایک ساکن یا بے حرکت سرگرمی ہوتی ہے مثلاً تحریکہ movie یا اوپرا وغیرہ دیکھنا۔ جبکہ فرحت amusement کی متحرک یا فعال اشکال، جیسا کہ کھیل وغیرہ، کو زیادہ تر تفنّن recreation میں شمار کیا جاتا ہے۔ سرگرمیاں مثلاً ذاتی پڑھائی یا کسی موسیقی ادات musical instrument کی ممارست practice کو مشاغل سمجھا جاتا ہے۔ وہ صنعت جو تفریح فراہم کرتی ہے اُسے تفریحی صنعت یا تفریحیات کہاجاتا ہے۔ تفریح کی کئی اقسام ہیں مثلاً: سنیما، جلوہ کاری، کھیل، لعبہ جات games اور سماجی رقص socia ...

                                               

تسبیح

خدا کی پاکی بیان کرنا۔ اصطلاح میں اللہ کے نام کو بار پڑھنا یا کسی وظیفہ کی تکرار کرنا۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ مجھے ہر وقت یاد رکھو اس لیے مسلمانوں نے اسمائے الہی کو پڑھنا داخل عبادت سمجھا اور اس کے پڑھنے کا یہ طریقہ مقرر کیا کہ پتھر موتی یا مونگے وغیرہ کے ایک سو دانوں کو ایک ڈوری میں پرو لیتے ہیں۔ اور نماز کے بعد یا فرصت کے وقت ان پر اسمائے الہی کو پڑھتے ہیں۔ بعض علما نے اسے بدعت حسنہ قرار دیا ہے۔ اور بعض نے ناپسند کیا ہے۔ لیکن اگر اس سے ریاکاری ہوتی ہو تو سب کے نزدیک اس کا استعمال برا ہے۔ چونکہ ریاکار زاہدوں نے لمبی تسبیحیں رکھنی شروع کر دی تھیں اسی لیے مشرقی شاعری میں تسبیح خوانی اور سحبہ ...

                                               

آگرہ

آگرہ ہندوستان کی شمالی ریاست اترپردیش کا اہم شہر ہے۔ اس کا پرانا نام اکبر آباد تھا۔ مغلیہ دور بالخصوص شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے زمانے میں یہ دار السلطنت رہا ہے۔ آگرہ دنیاکی مشہور اور خوبصورت عمارت تاج محل کے لیے جانا پہچاناجاتاہے۔ اور یہاں پر شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کا تعمیر کردہ لال قلعہ بھی قائم ہے جو ایک خوبصورت اور بڑی عمارت ہے کہا جاتا ہے کہ یہ عمارت دہلی کے لال قلعہ سے بھی زیادہ وسیع ہے اس عمارت کے اندر فرصت کے ساتھ گھومنے پر یہاں کی بہت سی حیران کن چیزوں سے تعارف ہوتا ہے۔ پورے لال قلعہ کو سرعت کے ساتھ گھومنے کے واسطے بھی چار پانچ گھنٹے درکار ہیں۔ دہلی سے پہلے یہی شہر جلال ا ...

                                               

حسن نظامی

خواجہ حسن نظامی سلسلہ چشتیہ کے صوفی اور اردو زبان کے ادیب تھے۔ آپ کے مضامین مخزن میں چھپتے رہے۔ آپ نظام الدین اولیاء کے عقیدت مند تھے اور پیری مریدی کا سلسلہ بھی رکھتے تھے۔ حضرت نظام الدین اولیاء کی درگاہ میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سید امام، درگاہ سے وابستہ تھے۔

                                               

گیس

طبیعیات میں، فارغہ یا گیس مادہ کی وہ حالت ہے جس میں مادہ کی کوئی خاص شکل نہیں ہوتی اور اُس کے ذرّے یعنی جوہر، سالمات، آئنات یا برقیے کچھ حد تک آزادانہ حرکت کرتے ہیں مثلاً ہوا۔ گیس جس برتن میں بند ہو اس کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ٹھوس اور مائع کے بر خلاف گیس با آسانی پھیل اور سکڑ سکتی ہے۔ ٹھنڈا کرنے پر مناسب دباو پر گیس مائع اور ٹھوس حالت میں تبدیل کی جا سکتی ہے۔

                                               

دمڑی

دمڑی ہندوستان میں کانسی کا سکہ ہوا کرتا تھا۔ ایک پیسہ چار دمڑی کے برابر ہوتا تھا۔ دمڑی غالباً دام दाम سے ماخوذ ہے جو شہنشاہ اکبر کے زمانے میں تابنے کا ایک سکہ ہوا کرتا تھا۔ قوت خرید کے لحاظ سے یہ اپنے وقت کا چھوٹا ترین سکہ تھا۔ سعادت حسن منٹو کے افسانوں اور میر امن کی تصنیف باغ و بہار یعنی قصہ چہار درویش میں لفظ دمڑی استعمال ہوا ہے۔ کھڑی شریف میں مدفون پیرا شاہ غازی کو دمڑیاں والی سرکا رکہا جاتا ہے۔

                                               

سید انوار گیلانی

"سید انوار گیلانی" ایک پاکستانی شاعر و کالم نگار ہیں۔ اس کے علاوہ دو تحقیقی کتب کے مصنف بھی ہیں۔ ابتدائی تعلیم شیخوپورہ میں حاصل کی۔ گورنمنٹ ہائی سکول سے میٹرک پاس کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے بی۔ کام کی سند حاصل کی اور پنجاب پبلک لائبریری سے وابستہ ہو گئے۔ فرصت کے اوقات میں لکھنے لکھانے کا کام کرتے۔ رفتہ ان کے مضامین رسالوں اور اخباروں میں چھپنے لگے۔ مختلف اصناف ادب کی تحقیق اور تخلیق میں مصروف رہے جن میں نظم، غزل، کالم نویسی اور ڈرامے وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان میں ڈرامے کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کے دو لانگ پلے کلائمکس اور محبت زندہ باد زیر تکمیل ہیں۔ دو سوپ سیریلزگل بانو،انیس سوستر پر کا ...

چناب کلب
                                               

چناب کلب

بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں فیصل آباد اس وقت کے لائلپور کے پہلے ڈپٹی کمشنر ہینری کیوز 1904-1906 نے ایک سماجی کلب کی بنیاد رکھی جہاں پر ساندل بار میں کام کرنے والے برطانوی افسران فرصت کے لمحات میں اکٹھے ہوتے تھے۔ دسمبر 1909 میں کیپٹن ڈگلس لائلپور کے نئے ڈپٹی کمشنر تعینات ہوئے، جن کے نام پر آٹھ بازاروں کے باہر فیصل آباد کی پہلی آبادی ڈگلس پورہ کے نام سے قائم ہوئی۔ مارچ 1910 میں یہ کلب قیصری باغ موجودہ کمپنی باغ / باغ جناح میں منتقل کر دیا گیا۔

                                               

م سے اردو محاورے

منہ پر ناک نہ ہونا۔ مونچھ مروڑا روٹی توڑا۔ ماٹ کا ماٹ ہی بگڑا ہے۔ منہ پر تھوک دینا۔ مٹی سے مٹی مل جانا۔ منہ پر ٹھیکری رکھ لینا۔ منہ اٹھائے چلے آنا۔ مینڈکی کو زکام ہونا۔ مٹھی گرم کرنا۔ منہ لے کے رہ جانا۔ مٹھی میں ہونا۔ مٹی خراب کرنا۔ مرنے کی فرصت نہ ہونا۔ منہ دیکھ کر بات کرنا۔ ماگھ ننگی بیساکھی بھوکی۔ مارا پھرنا۔

                                               

کنور مہندر سنگھ بیدی

کوئی دیوانہ بنائے کوئی دیوانہ بنے انہیں کیا علم جو ہم کو یہاں سمجھانے آئے ہیں بستی یہ اُجڑنے پہ بھی آباد رہے گی قصۂ عاشق و معشوق بس اتنا ہی تو ہے غم و آہ نالوں سے فرصت نہیں ہے مری آنکھ پر نہ جانا یہ تو خشک بھی ہے تر بھی کہ ہم دیر و حرم ہوتے ہوئے میخانے آئے ہیں ہر لخطہ مکیں دل میں تری یاد رہے گی محبت ہے یہ خوابِ غفلت نہیں ہے مجھے بھول جانے والے مرے دل کی کچھ خبر بھی