Back

ⓘ فلکیات - چینی فلکیات, قرون وسطیٰ کی مسلم دنیا میں علم فلکیات, میل, فلکیات, قرآن اور فلکیات, بطلیموس, سلم السماء, کروی فلکیات, زیر سرخ فلکیات, ارتفاع ..




                                               

چینی فلکیات

چین میں فلکیات انگریزی: Astronomy in China کی تاریخ کا آغاز چین کے برنجی دور میں شانگ خاندان کے عہد سلطنت سے شروع ہوتا ہے۔چین میں مصدقہ تاریخی آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی بار فلکیات کے چینی ستاروں کے نام آنیانگ سے دریافت ہونے والی اوریکل ہڈیوں سے معلوم ہوئے ہیں اور اِن کے یہ نام اٹھائیس چینی قمری منازل میں لکھے گئے ہیں۔شانگ خاندان کے دور تک فلکیات اپنی ابتدائی مراحل سے گزرتا ہوا ترقی پاچکا تھا اور ستاروں کے نام تک تجویز کیے جا چکے تھے۔ 1339 قبل مسیح سے 1281 قبل مسیح کے دوران شانگ خاندان کے بادشاہ وو دنگ کے عہدِ حکومت میں منازل قمری کے نام ملتے ہیں۔ چوتھی صدی قبل مسیح میں چین کا تنازعاتی ...

                                               

قرون وسطیٰ کی مسلم دنیا میں علم فلکیات

تیرہویں صدی عیسوی کے مشہور ماہر فلکیات قطب الدین شیرازی کی شبیہ جس میں نظامِ شمسی کا نقشہ دکھایا گیا ہے۔ قرون وسطی میں مسلمانوں کے اقتدار پھیلنے کے ساتھ یہ مذہب کے حکام اور رعایا اچھے سیکھنے والے اور اس پر عمل کرنے والے ثابت ہوئے۔ مسلم حکام نے مفتوحہ علاقوں کی ترقی یافتہ تہذیب کے مقابلے میں اپنی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے مقامی اداروں، خیالات، نظریات اور ثقافت کو اسلامی سانچے میں ڈھال لیا۔ انہوں نے اپنے زیادہ ترقی یافتہ مفتوحین سے سیکھنے میں کوئی جھجک محسوس نہ کی۔ عظیم لائبریریاں اور دار التراجم قائم ہوئے۔ سائنس، طب اور فلسفہ کی بڑی کتابوں کو مشرق و مغرب سے اکٹھا کر کے ان کے ترجمے کیے گئے۔ ...

                                               

میل (فلکیات)

فلکیات میں میل استوائی متناسق نظام میں کرہ سماوی پر موجود دو زاویوں میں سے ایک ہے، دوسرا زاویہ ساعت ہے۔ میل خط استوا سماوی سے شمال یا جنوب میں ناپا جاتا ہے۔

                                               

قرآن اور فلکیات

قرآن اور فلکیات دراصل قرآن میں جدید فلکیات کے بارے میں معلومات اور انکشافات کو کہا جاتا ہے۔ قرآن کے ایک ہزار سے زیادہ آیات جدید سائنس کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ اور اس میں بیسیوں آیات صرف فلکیات کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں۔

                                               

بطلیموس

بطلیموس دوسری صدی عیسوی کا مشہور یونانی ماہر فلکیات، جغرافیہ دان اور ریاضی دان۔ اسکندریہ مصر میں پیدا ہوا۔ اس نے نظام شمسی کا زمین مرکزی نظریہ پیش کیا۔ اس موضوع پر اُس کی کتا ب ’’المجستی‘‘ بہت مشہور ہے۔ جو تیرہ جلدوں یا مقالات پر مشتمل ہے۔ اور جس کا موضوع فلکیات ہے۔ پہلے دو تمہیدی مقالوں میں فلکیات کے مبادیات اور ریاضی کے طریقوں کی شرح کی گئی ہے۔ مقالہ سوم میں ایک سال کے طول اور سورج کی حرکت پر بحث کی گئی ہے۔ مقالہ چہارم مہینوں کے طول اور چاند کے گھٹنے بڑھنے پر ہے۔ مقالہ پنجم میں سورج، چاند اور زمین کا قطر، ان کے ابعداد اور سورج کے فاصلے کا بیان ہے۔ ’’المجستی‘‘ فلکیات کا، جس حد تک یہ علم 1 ...

                                               

سلم السماء

سلم السماء یا رسالہ الکمالیہ فارسی النسل ماہر فلکیات غیاث الدین مسعود جمشید کاشانی کی تصنیف ہے جس میں فلکیات اور نظام شمسی میں موجود اجرامِ فلکی پر بحث کی گئی ہے۔ یہ کتاب پندرہویں صدی عیسوی کے پہلے عشرے میں لکھی گئی۔

کروی فلکیات
                                               

کروی فلکیات

کروی فلکیات یا موقعیتی فلکیات کی وہ شاخ ہے جو کرہ سماوی پر کسی ایسے اجرام سماوی کے محل وقوع کا تعین کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جو زمیں پر کسی خاص محل وقوع پر کسی خاص وقت اور تاریخ میں نظر آتے ہے۔ یہ فلکیاتی پیمائش اور کروی ہندسہ کے ریاضیاتی طریقہ کار پر انحصار کرتا ہے۔

زیر سرخ فلکیات
                                               

زیر سرخ فلکیات

زیر سرخ فلکیات کی ایک ایسی شاخ ہے جس میں ان اشیاء کا مطالعہ کیا جاتا ہے جو زیر سرخ تابکاری اور شعاعوں کی مدد سے نظر آتی ہیں۔ نظر آنے والی شعائیں 400 سے 700 نینومیٹر تک طولِ موج رکھتی ہیں۔ ایسی شعائیں جن کا طول موج 700 نینومیٹر سے زیادہ مگر خرد موج سے کم ہوتا ہے زیرِ سرخ شعائیں کہلاتی ہیں۔

ارتفاع (فلکیات)
                                               

ارتفاع (فلکیات)

فلکیات کے افقی متناسق نظام میں ارتفاع اس زاویہ کو کہتے ہیں جو افق اور جرم سماوی کے درمیان ہو۔ اس لیے اسے زاویہ ارتفاع بھی کہتے ہیں.

اعتدالین
                                               

اعتدالین

اعتدال یا اعتدالین وہ لمحہ ہے جب زمین کے خط استوا کا مستوی سورج کے قرص کے مرکز میں سے گزرے، جو سال میں دو دفعہ ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ وہ نقطہ ہے جب سورج خط استوا کے عین اوپر سے گزرے۔

افلاک نما
                                               

افلاک نما

Planetarium افلاک نما: ایک ایسی جلوہ گاہ، جس میں افلاکی اجسام کو پروجیکٹ کرکے دکھایا جاتا ہے۔ پاکستان کے کراچی کے ممتاز منزل میں پی آیی اے افلاک نما بہت مشہور ہے جسے دیکھنے کے لیے روزانہ بے شمار عوام حسن اسکوایر میں جمع ہوتی ہے۔ بچوں کے ساتھ بڑے بھی اس جلوہ نما سے لطف اندوز ہوتے ہیں -

بونا سیارہ
                                               

بونا سیارہ

بین الاقوامی فلکیاتی اتحاد کے مطابق بونا سیارہ ایسے جرم سماوی کو کہا جاتا ہے کہ مندرجہ ذیل چار شرائط میں سے تین پر پورے اترتے ہوں۔ 1- وہ جسم سورج کے گرد مدار میں ہو۔ 2- وہ اپنی خود ثقلی کے لیے اس قدر کمیت رکھتا ہو کہ صلب جسمی قوتوں پر حاوی ہو سکے اور یوں ایک آبسکونی توازن حاصل کرکے تقریباًًًً گول یا کروی شکل اختیار کر سکتا ہو۔ 3- اسنے اپنے مدار کے پڑوس میں صفائی نہ کی ہو۔ 4- وہ ایک سیارچہ نہ ہو۔

                                               

بین النجمی خلا

نقطہ جہاں پر نظام شمسی ختم ہوتا ہے اور بین النجمی خلا شروع ہوتی ہے کچھ ٹھیک طرح سے متعین نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ حد دو مختلف قوتیں طے کرتی ہیں۔ بین النجمی خلا کو سمجھنے کے لیے بین النجمی واسطہ پہلے دیکھنا چاہیے۔

دمدار سیارہ ہیلے- بوپ
                                               

دمدار سیارہ ہیلے- بوپ

دمدار سیارہ ہیلے- بوپ بیسویں صدی عیسوی کے آخری عشرہ میں دکھائی دینے والا آخری دمدار سیارہ تھا جو 1997ء میں دنیا والوں کو کھلی آنکھ سے نظر آتا رہا۔

زیرسرخ
                                               

زیرسرخ

زیریں سرخ شعائیں یا انفرا ریڈ شعائیں ایسی شعائیں ہیں جن کا طول موج سرخ رنگ کے طول موج سے زیادہ ہوتا ہے نظر آنے والی شعائیں 400 سے 700 نینومیٹر تک طولِ موج رکھتی ہیں۔ ایسی شعائیں جن کا طول موج 700 نینومیٹر سے زیادہ مگر خرد موج سے کم ہوتا ہے زیرِ سرخ شعائیں کہلاتی ہیں۔:یہ سورج سے بھی خارج ہوتی ہیں مگر عام آنکھ سے نظر نہیں آتیں۔

سحابیہ
                                               

سحابیہ

سحابیہ Nebula کہکشاں کی دخانی حالت، جسے نیبولا بھی کہتے ہیں، کسی کہکشاں کا گرد اور گیس پر مشتمل خطہ ہوتا ہے۔ ماضی میں یہ لفظ کبھی کہکشاں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اسے سدیم بھی کہا جاتا ہے۔