Back

ⓘ قرون وسطی کا اسلامی جغرافیہ اور ترسیم کشی سے مراد جغرافیہ، ترسیم کشی اور زمینیات کے میدان میں وہ ترقی اور پیشرفت جو مسلم سائنس دانوں کے جانب سے قرون وسطی میں ہو ..




قرون وسطی کا اسلامی جغرافیہ اور ترسیم کشی
                                     

ⓘ قرون وسطی کا اسلامی جغرافیہ اور ترسیم کشی

قرون وسطی کا اسلامی جغرافیہ اور ترسیم کشی سے مراد جغرافیہ، ترسیم کشی اور زمینیات کے میدان میں وہ ترقی اور پیشرفت جو مسلم سائنس دانوں کے جانب سے قرون وسطی میں ہوئی تھی اور یہ پیشرفت بجا طور پر ان میدانوں میں ایک سنگ میل ثابت ہوئی۔

خلافت عباسیہ کی زیر سرپرستی آٹھویں صدی عیسوی میں مسلم سائنس دانوں نے اس میدان میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ ان مسلم سائنس دانوں میں الخوارزمی، ابو زید البلخی بانی بلخی مکتب فکر اور ابو ریحان البیرونی کافی مشہور ہوئے۔ بارہویں صدی میں محمد الادریسی نے اسلامی جغرافیہ انتہائی عروج پر پہونچا دیا۔ اس کے بعد ترک بالخصوص عثمانی سلطنت کے دور اقتدار میں مسلم سائنس دانوں محمود کاشغری اور پیری رئیس وغیرہ نے اس میدان میں کافی گرانقدر خدمات انجام دیں۔

                                     
  • پیری رئیس 1465 1554 امین احمد رازی 16ویں صدی محمد رضا حافظ نیا پیدائش 1955 غازی فلاح پیدائش 20ویں صدی قرون وسطی کا اسلامی جغرافیہ اور ترسیم کشی
  • الوردی اپنی کتاب المسعودی میں اس کتاب کا حوالہ دیتا ہے قرون وسطی کا اسلامی جغرافیہ اور ترسیم کشی مسلمان جغرافیہ دانوں کی فہرست تأريخ الأدب العربي الج زء
  • فارسی مسلم ہر فن مولا: ایک قرون وسطی کا اسلامی جغرافیہ اور ترسیم کشی اسلامی قرون وسطی میں ریاضی طبیب نفسیات دان اور مسلم سائنس ابن سینا فارسی
  • کا تعین 24, 000 میل کیا گیا تھا پیمائش کی قدیم عربی اکائیاں بائبلی میل میل لمبائی ابن کثیر فرغانی ناٹیکل میل ذراع قرون وسطی کا اسلامی جغرافیہ اور ترسیم