Back

ⓘ ٹیکسی والا سانچہ:Trans ٹیکسی ڈرائیور 2018 کی ایک بھارتی تیلگو - زبان کی مافوق الفطرت مزاحیہ سنسنی خیز فلم ہے جو راہول سنکریتان نے لکھی ہے اور اس کی ہدایتکاری بھ ..




                                     

ⓘ ٹیکسی والا

ٹیکسی والا سانچہ:Trans ٹیکسی ڈرائیور) 2018 کی ایک بھارتی تیلگو - زبان کی مافوق الفطرت مزاحیہ سنسنی خیز فلم ہے جو راہول سنکریتان نے لکھی ہے اور اس کی ہدایتکاری بھی کی ہے اور اسے مشترکہ طور پر یووی کریشنز اور گیتا آرٹس نے تیار کیا ہے۔ فلم میں وجے دیورکونڈا ، پریانکا جووالکر اور مالویک نائر مرکزی کردار میں ہیں، ساتھ ہی مدھونندن ، روی ورما اور شیجو معاون کردار میں ہیں۔ میوزک کی تشکیل جیک بیجوئے نے کی ہے۔ فلم 17 نومبر 2018 کو ریلیز ہوئی۔ اس فلم کا ہندی میں ری میک اداکار ایشان کھٹرکے ساتھ خالی پیلی کے نام سے دوبارہ تیار کیا جارہا ہے۔

                                     

1. فلم کی کہانی

اس فلم کا آغاز کسی اسپتال میں ایک عجیب و غریب منظر کے ساتھ ہوتا ہے ایک عورت کا بچہ مردہ پیدا ہوتا ہے اور ایک لڑکی کی ماں ایمرجسنی میں اسپتال لائی جاتی ہے مگر جانبر نہیں ہوپاتی اور پھر فلم کی کہانی ایک سال آگے بڑھ جاتی ہے۔

شیوا وجے دیورکونڈا اپنے دوست مدھونندن کے ساتھ رہنے اور نوکری تلاش کرنے کے لیے حیدرآباد آتا ہے۔ اس کا دوست اسے کچھ نوکریاں تجویز کرتا ہے اور شیوا ان سب کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن وہ مطمئن نہیں ہوپاتا اور آخر کار ٹیکسی ڈرائیور بننے کا فیصلہ کرتا ہے۔ وہ اپنے گائوں اپنے بھائی روی پرکاش سے پیسہ لینے جاتا ہے ، جو اپنی بیوی کے حمل اور ہونے والے بچے کی ڈیلیوری کے اخراجات کا دکھڑا سناتا ہے لیکن اس کی بھابھی کلیانی اسے اپنا منگل سوتر گروی رکھنے کے لیےت دے دیتی ہے ہے۔ شیوا اور اس کے دوست اپنے بجٹ میں کار تلاش کرتے ہیں لیکن ناکام ہوجاتے ہیں۔ ایک صبح ، شیوا کو ایک نامعلوم شخص کا فون آتا ہے جو اسے بتاتا ہے کہ اس کے پاس ایک کار ہے جو فروخت کرنے کے لیے تیار ہے۔ شیوا کار کے مالک سے ملتا ہے اور خوشی کار لے آتا ہے ، جبکہ اس کا دوست اتنی سستی کار ملنے پر تھوڑا سا جھجک رہا ہوتا ہے۔

شیوا نے اولا کیب سروس کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ اپنی پہلی سواری پر ، وہ انوشہ پریانکا جوالکر نامی لڑکی سے پیار کرنے لگتا ہے۔ پھر ، وہ کار میں چند ڈراونا چیزوں کا تجربہ کرنے لگتا ہے۔ وہ کار کے پچھلے مالک سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ایسا کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ ایک جعلی فقیر آتا ہے اور ان کو بے وقوف بنا کر کار چُرا لے جایتا ہے۔ فقیر کے روپ میں چور پر کار کے اندر کسی اندیکھے وجود کا حملہ ہوتا ہے۔ اگلی صبح ، شیوا اور اس کے دوست اس کار اپنے گیراج میں کار دیکھ رہے ہیں۔ شیوا کو اپنی بھابھی کی ڈیلیوری کے لیے رقم کا بندوبست کرنا پڑتا ہے ، لہذا وہ پھر سے گاڑی چلانا شروع کردیتا ہے۔ دیر رات سفر کے دوران اسے نیند آجاتی ہے لیکن وہ گاڑی خودکار طریقے اسے حادثے سے بچا لیتی ہے۔ ایک بار ، انوشہ کو اپنی رہائش گاہ پر چھوڑنے کے بعد ، شیوا کو ایک ڈاکٹر اتٹیج ملتا ہے جو اس سے التجا کرتا ہے کہ اسے جلد ہی اسپتال پہنچنا ہے ۔ لیکن ، جب وہ کار میں بیٹھتا ہے تو سفر کے دوران کوئی انجان طاقت اسے کار کے ڈیش بورڈ سے ٹکرا کر زخمی کردیتی ہے اور پھر ریل کی پٹری پر پہنچنے پر گاڑی اسے باہر پھینک دیتی ہے اور ڈاکٹر ٹرین سے کچلا جاتا ہے۔

شیوا کار کے پچھلے مالک کے گھر جاکر کچھ چوری کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تاکہ وہ اپنی رقم واپس لے سکے۔ وہ اور اس کے دوست پہنچتے ہیں تو گھر کے اسٹور روم میں ایک شخص زخمی حالت میں ملتا ہے۔ انہوں نے اسے اسپتال میں داخل کرایا۔ وہ شخص جاگتا ہے اور بتاتا ہے کہ اسے معلوم ہے کہ کار میں عجیب و غریب واقعات کیوں ہو رہے ہیں۔ وہ بتاتا ہے کہ وہ نفسیات اور پیراجیولوجی کا پروفیسر ہے۔ ایک بار ، وہ ایسٹرل پروجیکشن نامی ایک مضمون پڑھاتا ہے ، جس کے ذریعہ کوئی شخص موت سے پہلے اپنی روح کو جسم سے الگ کرسکتا ہے۔ سیسرا بھاردواج مالویکا نائر نامی ایک طالبہ نے اس سے اس پر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کو کہتی ہے۔ وہ اس سے اس کی نیت کے پیچھے کی وجہ پوچھتا ہے۔ فلیش بیک میں ، سیسرا اپنی کہانی سناتی ہیں۔ وہ اپنی ماں یمونا اور اپنے سوتیلے والد رگھورام کے ساتھ رہتی ہے۔ اس کی والدہ فوت ہوگئیں اور وہ اس سے بہت پریشان ہیں۔ وہ اسے بتاتی ہے کہ وہ جاننا چاہتی ہے کہ اس کی ماں کو کس نے مارا۔ پروفیسر اس پر ایسٹرل پروجیکشن کرتا ہے اور اس عمل میں ، وہ اثیری دنیا میں گہری جانا شروع کردیتا ہے۔

اثیری حالت میں سسیرا کو پتا چلتا ہے کہ اس کے سوتلے باپ رگھورام نے ہی اس کی والدہ کو مارا ہے اور اب وہ اسے مانا چاہتا ہے۔

رگھورام اپنے دوست ، جو ڈاکٹر ہے ، کے ساتھ وہاں پہنچ جاتا ہے اور پروفیسر اور سیسرا کو ایک کار لے کر پروفیسر پر تشدد کرتا ہے اور اس دوران ایسٹرل پوجیکشن پروسسیس پورا نہ ہونے کی وجہ سیسرا کی روح اس کے جسم میں واپس نپہیں آپاتی ۔ چنانچہ رکھو رام اسے مردہ سمجھ کر خوش ہوجاتا ہے۔ لیکن سیسرا کا جسم کلینک لے جایا گیا کیونکہ اس نے ایک ہسپتال کو اپنا جسم عطیہ کر دیا تھا۔ یہ جاننے پر ، شیوا نے اس کی روح سے اپنے رویے کی معافی مانگی ۔ پروفیسر نے انہیں بتایا کہ سیسرا کو اس کا جسم مل جائے تو وہ دوبارہ زندہ ہوسکتی ہے۔ شیو اور اس کے دوست کلینک جاکر سسیرا کے جسم کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، وہاں کا سیکیورٹی گارڈ جو وہی فقیر کے بھیس میں چور ہوتا ہے ان کی مدد کرتا ہے۔ اسی دوران رگھورام کو پروفیسر کے فرار ہونے کا پتہ چل جاتا ہے اور وہ بھی سیسرا کا جسم کو حاصل کرنے کلینک پہنچتا ہے ۔ کار کے قریب آنے پر سسیرا کی روح رگھورام کو قریب مارنے ہی والی ہوتی ہے مگر وہ بچ جاتا ہے ۔ شیو ا رگھو رام کو پیٹ کر بے ہوش کردیتا ہے اور اسے اور سیسرا کے جسم کو پروفیسر کی لیب میں لے آتا ہے ۔ ایسٹرل پروجیکش دوبارہ شروع کیا جاتا ہے، اس دوران رگھورام ہوش میں آجاتا ہے اور سیسرا کی لاش کو لے جانے کی کوشش کرتا ہے لیکن گاڑی میں آگ لگ جاتی ہے اور سسیرا کا جسم جل جاتا ہے ۔ شیو ا اس واقعہ پر بہت رنجیدہ ہو تا ہے۔

اسے انوشہ کا فون آتا ہے جس نے اسے بتایا کہ اس کی بھابھی نے ایک بچی کو جنم دیا ہے۔ وہ صرف اسپتال پہنچتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ بچہ کروموسوم کی ابنارملٹی کی وجہ سے فوت ہو گیا تھا۔ یہ سب گیراج میں واپس جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہیں۔ جب بچے کا جسم کار میں موجود تھا، ایسٹرل پروجیکشن پروسسیس دوبارہ شروع ہوجاتا ہے اور سیسرا کی روح بچی کے جسم میں داخل ہوجاتی ہے اور بچہ رونے لگتا۔ شیوا ، اس کا بھائی ، اس کی بھابھی ، اس کے دوست ، پروفیسر اور انوشہ سب خوشی اکٹھے ہوکر بچے کو گود میں لپیٹ لیتے ہیں۔

                                     

2. کردار

  • وشنو بطور ہالی ووڈ، شیوا کا دوست گیراج مکینک
  • وجے دیوارکونڈا -بطور- شیوا
  • یمنا -بطور- سیسرا کی ماں
  • کیریتی دام راجو -بطور- ڈاکٹر
  • کلیانی -بطور- شیوا کی بھابھی
  • اتتج -بطور- ڈاکٹر
  • ستیہ کرشنن -بطور- ڈاکٹر
  • روی پرکاش -بطور- شیوا کا بھائی
  • مالویکا نائر -بطور- سیسرا بھارڈواج
  • مدھو نندن -بطور- بابی، شیو کا دوست گیراج کا مالک
  • چترام سینو
  • شیجو -بطور- رگھورام سیسرا کا سوتیلا والد
  • روی ورما -بطور- سیسرا کا پروفیسر
  • پریانکا جوالکر -بطور- انوشا / انو
  • چماک چندر -بطور- جعلی فقیر / اسپتال کا سیکیورٹی گارڈ