Back

ⓘ معلومات کی منتقلی سے مراد مسائل کی یکسوئی کے لیے معلومات کو تقسیم کرنا اور مفید آراء فراہم کرنا۔ ادارہ جاتی نظریہ میں معلومات کی منتقلی ادارے کے ایک کونے سے دوس ..



معلومات کی منتقلی
                                     

ⓘ معلومات کی منتقلی

معلومات کی منتقلی سے مراد مسائل کی یکسوئی کے لیے معلومات کو تقسیم کرنا اور مفید آراء فراہم کرنا۔ ادارہ جاتی نظریہ میں معلومات کی منتقلی ادارے کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک معلومات کو منتقل کرنے کا عملی مسئلہ حل کرنا۔ معلومات کی نظامت کی طرح معلومات کی منتقلی یہ کوشش کرتی ہے کہ معلومات کو منظم کیا جائے، اس کی تخلیق، رکھ رکھاؤ اور تقسیم اس طرح ہو کہ مستقبل کے استعمال کرنے کو بھی ملتی رہے۔ یہ محض مواصلات کا ایک مسئلہ نہیں ہے۔ اگر یہ مسئلہ صرف اتنا ہی ہوتا تو ایک یاد داشت، ای میل یا ایک بیٹھک معلومات کی منتقلی کو مکمل کر سکتی ہے۔ معلومات کی منتقلی زیادہ پیچیدہ اس وجہ سے ہے کہ:

  • معلومات ادارہ جاتی ارکان، آلات، کام اور ذیلی جالکاریوں میں چھپی ہے اور
  • ادارہ جات کی زیادہ تر معلومات مُسکِت ہے یا اس طرح ہے کہ اس کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔
                                     

1. انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات کی منتقلی اور راز داری

انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات کی منتقلی میں ایک اہم مسئلہ راز داری کا رو نما ہو چکا۔ یہ مسئلہ دیگر مواقع سے زیادہ سنگین بھی ہو سکتا ہے کیوں کہ افشائے راز ضروری نہیں کہ پیام کے ارسال کنندے یا وصول کنندے کی جانب سے ہو، یہ کسی بھی غیر مجاز تیسرے فریق کی مداخلت سے بھی رو نما ہو سکتا ہے۔ اس میں لطف تو یہ بھی ہوتا ہے کہ نہ تو اس تیسرے فریق کی شناخت ظاہر ہوتی ہے، اور نہ ہی یہ پتہ ہوتا ہے کہ پیامات کس حد تک غیر مجاز طور پر منتقل ہوئے ہیں۔ اسی کے مد نظر عالمی کام کی جگہوں کے مواقع WPO یا Workplace Options کی ویب سائٹ رازداری کی پالیسی پر یہ اعلان کرتا ہے:

Free and no ads
no need to download or install

Pino - logical board game which is based on tactics and strategy. In general this is a remix of chess, checkers and corners. The game develops imagination, concentration, teaches how to solve tasks, plan their own actions and of course to think logically. It does not matter how much pieces you have, the main thing is how they are placement!

online intellectual game →