Back

ⓘ تسبیح. خدا کی پاکی بیان کرنا۔ اصطلاح میں اللہ کے نام کو بار پڑھنا یا کسی وظیفہ کی تکرار کرنا۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ مجھے ہر وقت یاد رکھو اس لیے مسلمانوں نے اسمائ ..




تسبیح
                                     

ⓘ تسبیح

خدا کی پاکی بیان کرنا۔ اصطلاح میں اللہ کے نام کو بار پڑھنا یا کسی وظیفہ کی تکرار کرنا۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ مجھے ہر وقت یاد رکھو اس لیے مسلمانوں نے اسمائے الہی کو پڑھنا داخل عبادت سمجھا اور اس کے پڑھنے کا یہ طریقہ مقرر کیا کہ پتھر موتی یا مونگے وغیرہ کے ایک سو دانوں کو ایک ڈوری میں پرو لیتے ہیں۔ اور نماز کے بعد یا فرصت کے وقت ان پر اسمائے الہی کو پڑھتے ہیں۔ بعض علما نے اسے بدعت حسنہ قرار دیا ہے۔ اور بعض نے ناپسند کیا ہے۔ لیکن اگر اس سے ریاکاری ہوتی ہو تو سب کے نزدیک اس کا استعمال برا ہے۔ چونکہ ریاکار زاہدوں نے لمبی تسبیحیں رکھنی شروع کر دی تھیں اسی لیے مشرقی شاعری میں تسبیح خوانی اور سحبہ وغیرہ کی اصطلاحیں اور محاورات پیدا ہو گئے۔ اور ان کا مذاق اڑایا جانے لگا۔ رسول اللہ یا صحابہ نے تسبیح کا استعمال نہیں کیا۔ اس وقت مسلمان انگلیوں پر شمار کرتے تھے۔ جسے عقد انامل کہتے ہیں۔ تسبیح کا رواج بہت قدیم ہے۔ چنانچہ ہندو، پارسی، مسیحی اور یہودی بھی تسبیح پڑھتے ہیں۔

                                     
  • تسبیح فاطمہ عربی: ت س ب يح ف اط م ة ایک مخصوص ذکر ہے جو اسلام کے نبی حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی سب سے چہیتی صاحبزادی حضرت
  • کے بھول جانے کی صورت میں مرد کے لئے یہ حکم دیا کہ تسبیح کہہ کر امام کو مطلع کرے مگر عورت کو تسبیح کہنے کے بجائے یہ حکم دیا کہ تصفیق یعنی ایک ہاتھ کی
  • محسوسہ کے نہیں ہے اور آیت کریمہ البقرة 30 اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح و تقدیس کرتے ہیں کے معنی یہ ہیں کہ ہم تیرے حکم کی بجا آوری میں اشیاء کو
  • ہمارے پاس دو طرح کے موتی ہیں کالے اور سفید اور ان موتیوں سے ہمکو ایک تسبیح تیار کرنی ہے ہم کالے موتیوں کو CpG فرض کرتے ہیں اور سفید موتیوں کو DNA
  • لاتے ہیں جنہیں جب کبھی ا ن سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ ا س کی تسبیح پڑھتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ہیں O
  • الناس کو ترجیح او ل خدا تعالی کی طرف دعوت دی ان کے شاگرد تسبیح پکڑے نظر آتے ہیں یہ تسبیح اذکار پر مشتمل ہے جس میں قرآن حکیم سے اخذ کردہ اسمائے ربانی
  • ہیں اس نماز کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں کثرت سے تسبیحات پڑھی جاتی ہیں تسبیح کے الفاظ جو حدیث میں وارد ہوئے ہیں یہ ہیں : سبحان الله والحمد لله ولا إله
  • باڑ ہی جب کھیت کو کھائے تو رکھوالی کون کرے باسی بچے نہ کتا کھائے برزبان تسبیح و در دل گاؤ بندر کیا جانے ادرک کا سواد بھینس کے آگے ب ین بجانا بے وقت کی
  • آتا ہے اے ایمان والو  اللہ کا ذکر بہت زیادہ کیا کرو اور صبح وشام اس کی تسبیح کیا کرو اس کے علادہ بھی بہت سی آیات میں ذکر کا حکم آیا ہے حضرت ابی ہریرہ