Back

ⓘ سلطان راہی کی فلمیں. سلطان راہی نے سینکڑوں فلموں میں کام کیا اور ان کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا گیا ۔ انہوں نے ایکسٹرا سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا ..




                                     

ⓘ سلطان راہی کی فلمیں

سلطان راہی نے سینکڑوں فلموں میں کام کیا اور ان کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا گیا ۔ انہوں نے ایکسٹرا سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور پھر وہ محنت کی بدولت فلموں کی ضرورت بن گئے ۔ انہوں نے پنجابی فلموں کے ذریعے ہی نام کمایا لیکن انہوں نے کچھ اردو فلموں میں بھی کام کیا ان کی موت سے پاکستانی فلمی صنعت کو بے پایاں نقصان پہنچا ۔ سلطان راہی فلاحی کاموں کے لیے بھی بہت مشہور تھے ۔ مصطفی قریشی کے ساتھ ان کی جوڑی بہت مقبول ہوئی۔ سلطان راہی نے اردو اور پنجابی کے 804 سے زائد فلموں میں کام کیا۔ سلطان راہی کے قتل کے وقت بھی ان کی 54 فلمیں زیر تکمیل تھیں۔ 9 جنوری 1996ء میں انہیں ایمن آباد کے قریب ڈاکوئوں نے قتل کر دیا ۔ مقام افسوس ہے کہ ان کے قاتلوں کا ابھی تک پتہ نہ چل سکا۔

انہوں نے اپنی فلمی سفر کا آغاز 1956ء میں فلم باغی میں ایک معمولی سے کردار سے کیا تھے۔ اس کے بعد وہ خاصے عرصے تک فلموں میں چھوٹے موٹے کردار ہی ادا کرتے رہے۔ 1971ء میں فلم بابل میں انہیں ایک بدمعاش کا ثانوی ساکردار دیا گیا جس سے ان کی شہرت کا آغاز ہوا، جبکہ 1972ء میں بطور ہیرو ان کی پہلی فلم بشیرا ریلیز ہوئی اس فلم نے انھیں بام عروج تک پہنچادیا اور پھر پاکستان کے فلمی صنعت کے سب سے مقبول اور سب سے مصروف اداکار بن گئے۔ سلطان راہی کی مشہور فلموں میں بشیرا، شیر خان، مولا جٹ، سالا صاحب، چن وریام، آخری جنگ اور شعلے کے نام سرفہرست ہیں۔

سلطان راہی کا اصلی نام حاجی حبیب احمد المعروف سلطان راہی تھا، سلطان راہی بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع مظفرنگر بجنور میں 1938ء میں پیدا ہو ئے تقسیم ہند کے وقت وہ گوجرانوالہ آگئے۔ سلطان راہی نے اپنے فنی سفر کا آغاز میں فلم باغی سے کیا۔ سلطان راہی 9 جنوری 1996ء کو راولپنڈی سے لاہور آ رہے تھے کہ گوجرانوالہ بائی پاس کے قریب انہیں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔

  • انٹرنیٹ مووی ڈیٹابیس IMDb پر سلطان راہی کی فلمیں

وطن کے راکھوالے ” پاکستان فلم میگزین" ◄ پر