Back

ⓘ سائنس. علم کی تلاش یہاں لاتی ہے، علم کے دیگر استعمالات کے لیے دیکھیےٴ علم ضد ابہام۔ بنیادی طور پر تو سائنس ایک منظم طریقۂ کار کے تحت کسی بات کو جاننے یا اس کا ع ..




                                               

فضائی (سائنس)

زمان و مکان دوچيزنہين ہين - روشنی سے ملنے والی اطلاعات کی جوسطح نظرسے اوجھل ہے اس کانام زمان ہے اورجوسطح نظرکے سامنے ہے اس کانام مکان ہے-

                                               

لونر جم

لونر جم کینیڈا کا متحرک سائنس فکشن اسٹاپ موشن بچوں کا ٹیلی وژن شو ہے۔ یہ کینیڈا میں ہیلی فیکس فلم اور الائنس اٹلانٹس کے ذریعہ تیار کیا گیا تھا اور سکندر بار کے ذریعہ تخلیق کردہ ایک اصل تصور پر مبنی تھا۔ بین سم نے جم کی آواز فراہم کی۔

                                               

پیراسٹامول

پیراسٹامول ، جس کو اسیٹامینوفین بھی کہا جاتا ہے، ایک ذریعۂ علاج جس کا بخار اور معمولی سے شدید درد کے علاج کے لیے کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ ایک معیاری خوراک لینے پر پیراسٹامول جسمانی حرارت کو معمولی حد تک کم کر دیتا ہے۔ اس معاملے میں یہ ایبوپروفین سے کم تر ہے ، اس زمرے میں اس کے بخار کے علاج کے لیے فائدے غیر واضح ہیں۔

                                               

شانتی سوروپ بھٹناگر اعزاز برائے سائنس و ٹیکنالوجی

شانتی سوروپ بھٹناگر اعزاز برائے سائنس و ٹیکنالوجی بھارت میں سائنس کے میدان میں دیا جانے والا ایک قومی اعزاز ہے جسے ہر سال کونسل آف سائنٹیفیک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ غیر معمولی تحقیق کے لیے دیتا ہے جو ابتدائی یا عملی نوعیت کی ہو سکتی ہے۔ یہ کسی بھی سائنسی شعبے سے متعلق ہو سکتی ہے، جیسے کہ حیاتیات، کیمیا، ماحولیاتی سائنس، انجینئری، ریاضی، طب اور طبعیات۔ یہ اعزاز غیر معمولی بھارتی کار ناموں کی تسلیم شدگی ہے ۔ یہ اعزاز سی ایس آئی آر کے بانی ڈائریکٹر شانتی سوروپ بھٹناگر کے نام پر قائم کیا گیا ہے۔ اس کا اولین اعزاز 1958ء میں دیا گیا۔ اس عزاز کے حصول کنندوں کی قومی اور بین الاقوامی اہمیت ہے۔ کئی انعا ...

                                               

جامعہ کویت

کویت یونیورسٹی KU، عربی میں: جامعة الكويت، ایکٹ نمبر 29/1966 کے تحت اکتوبر 1966 میں قائم کیا گیا تھا۔ یونیورسٹی کا باضابطہ افتتاح 27 نومبر 1966 کو کیا گیا جس میں کالج آف سائنس ، کالج آف آرٹس ، کالج آف ایجوکیشن اور کالج برائے خواتین شامل تھے۔ یہ یونیورسٹی ریاست کا اعلی تعلیمی اور تحقیق کا پہلا عوامی ادارہ ہے۔ یونیورسٹی کا مقصد اسکالرشپ کے ذریعہ علم کو محفوظ اور منتقل کرنا ہے اور آرٹس اور علوم میں جدت اور ترقی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس کے تحت 17 کالج شامل ہیں، جو 76 انڈرگریجویٹ ، 71 گریجویٹ پروگراموں کی پیش کش کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کی سہولیات چھ کیمپسوں میں پھیلی ہوئی ہیں ، جو سائنس ، انجینئ ...

                                               

اشوکا یونیورسٹی

اشوکا یونیورسٹی آزادانہ فنون اور سائنس کے شعبہ جات کی نجی جامعہ ہے جو سونی پت، ہریانہ، بھارت میں واقع ہے۔ اس کا قیام 2014ء میں ہوا۔ اس جامعہ کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ، حکومت ہند اور حکومت ہریانہ نے تسلیم کیا ہے۔ اس جامعہ سے کئی سرکردہ شخصیات نے خطاب کیا ہے جیسے دہلی کے نائب وزیر اعلٰی منیش سیسودیا نے اکتوبر 2020ء میں اس جامعے میں حکمرانی میں خوش نظمی کے موضوع پر خطاب کیا۔ اس کے علاوہ جامعہ نئے تعلیمی تجربات اور نئے شعبہ جات قائم کرتی آ رہی ہے جیسے کہ مئی 2021ء میں ایک ایسٹرو فزکس سینٹر کا قیام شامل ہے۔ یونیورسٹی سے کئی نامور محقق، حالات حاضرہ کے ناقد اور نامور ماہر سیاسیات نیز شخصی آزادی ...

سائنس
                                     

ⓘ سائنس

  • علم کی تلاش یہاں لاتی ہے، علم کے دیگر استعمالات کے لیے دیکھیےٴ علم ضد ابہام۔

بنیادی طور پر تو سائنس ایک منظم طریقۂ کار کے تحت کسی بات کو جاننے یا اس کا علم حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے، اس طرح کہ اس مطالعے کا طریقہ اور اس کے نتائج دونوں ہی بعد میں دوسرے دہرا سکتے ہوں یا انکی تصدیق کرسکتے ہوں یعنی یوں کہـ لیں کہ وہ قابل تکرار ہوں اور اردو میں اس کو علم ہی کہتے ہیں۔ فی الحال سائنس کا کوئی ایسا ترجمہ کرنے کی کوئی باضابطہ کوشش نہیں کی گئی ہے کہ جو اس کو دیگر علوم سے الگ کرسکے اس لیے اس مضمون میں علم اور سائنس متبادلات کے طور پر استعمال کیے گئے ہیں، لہذا یوں کہ سکتے ہیں کہ مطالعہ کر کہ کسی چیز کے بارے میں جاننا یعنی علم ہی سائنس ہے۔ انگریزی میں سائنس کا لفظ لاطینی کے scientia اور اسے قبل یونانی کے skhizein سے آیا ہے جس کے معنی الگ کرنا، چاک کرنا کہ ہیں۔ مخصوص غیر فنونی علوم جو انسان سوچ بچار حساب کتاب اور مطالعہ کے ذریعہ حاصل کرتا ہے کہ لیے سائنس کے لفظ کا جدید استعمال سترہویں صدی کے اوائل سے سامنے آیا۔

بعض اوقات مندرجہ بالا تعریف کے مطابق حاصل کیے گئے علم یا سائنس کو خالص علم pure science بھی کہا جاتا ہے تاکہ اس کو سائنسی اطلاقات کے علم یعنی نفاذی علم applied science سے الگ شناخت کیا جاسکے۔

انسان کے سائنسی مطالعے کا سلسلہ زمانۂ قدیم سے جاری ہے جس کی تفصیل تاریخ سائنس میں آجائے گی اور زمانے کے ساتھ ان میں اضافہ اور بہتری ہوتی رہی ہے جس نے سائنس کو اس کی آج کی موجود شکل عطا کی۔ آنے والے سائنسدانوں نے ہمیشہ گذشتہ سائنسدانوں کے مشاہدات و تجربات کو سامنے رکھ کر ہی نئی پیشگویاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ بہرحال سائنس قدیم ہو یا جدید، بنیادی ہو یا اطلاقی ایک اہم ترین عنصر جو اس سائنسی مطالعے میں شامل رہا ہے وہ اسلوب علم یا سائنسی طریقۂ کار ہی ہے۔ یہ بھی قابل غور بات ہے کہ اس سائنسی اسلوب میں بھی زمانے کے ساتھ ترقی اور باریکیاں پیدا ہوتی رہی ہیں اور آج کوئی بھی سائنسی مطالعہ یا تجربہ اسلوب سائنس پر پورا اترے بغیر قابل توجہ نہیں سمجھا جاتا۔

سائنس اور فنیات arts کی تفریق کچھ یوں کی جاسکتی ہے کہ فنیات میں وہ شعبہ جات آجاتے ہیں جو انسان اپنی قدرتی ہنر مندی اور صلاحیت کے ذریعہ کرتا ہے اور سائنس میں وہ شعبہ جات آتے ہیں جنمیں سوچ بچار، تحقیق اور تجربات کر کہ کسی شہ کہ بارے میں حقائق دریافت کیے جاتے ہیں۔ سائنس اور آرٹس کے درمیان یہ حدِ فاصل ناقابلِِ عبور نہیں کہ جب کسی آرٹ یا فن کا مطالعہ منظم انداز میں ہو تو پھر یہ ابتدا میں درج تعریف کے مطابق اس آرٹ کی سائنس بن جاتا ہے۔

                                     

1. ‎سائنسی تاریخ

وسیع معنوں میں سائنس جدید دور سے پہلے اور بہت سے تاریخی تہذیبوں میں موجود رہی ہے۔ جدید سائنس اپنے نقطہ نظراور کامیاب نتائج میں نمایاں ہے: کڑے نکتہ نظر کے لحاظ سے سائنس سے مراد جدید سائنس ہی لی جاتی ہے۔ سائنس کے حقیقی معنی علم کے حصول کی بجاے علم کی ایک مخصوص قسم کے ہیں۔ خصوص یہ علم کی ان اقسام میں سے ایک ہے،جسے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، قدرتی چیزوں کے کام کے بارے میں علم درج شدہ تاریخ سے طویل عرصے سے پہلے جمع کیا گیا تھا اورجو کہ پیچیدہ تجریدی سوچ کے ارتکا کا بائیس بنا۔
                                     

2. ‎سائنسی زمرے

سائنس کے میدان کو عام طور پر دو بنیادی خطوط پر اسطوار کیا جاتا ہے ایک تو وہ جو فطری مظاہرات سے متعلق ہوتے ہیں اور علوم فطریہ natural sciences کہلائے جاتے ہیں اور دوسرے وہ کہ جو انسانی سلوک human behavior اور معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں اور معاشرتی علوم social sciences کہلاتے ہیں۔ سائنس کے ان دونوں ہی شعبہ جات کو تجربی empirical کہا جاتا ہے کیونکہ ان دونوں میں ہی جو معلومات حاصل کی جاتی ہیں ان میں انسانی تجربات اور مظاہر فطرت کے بارے میں شواہدات کا ہونا لازمی قرار دیا جاتا ہے، یعنی ان معلومات کو ایسا ہونا چاہیے جو فردی نہ ہوں بلکہ بعد میں آنے والے سائنس دان یا علما بھی انکی صحت کی تصدیق کر سکیں اور انکو اپنے مستقبل کے تجربات میں استعمال بھی کرسکیں، ہاں یہ ہے کہ ایسا کرنے کے دوران یعنی گذشتہ تجربی مشاہدات سائنس کی تصدیق کے دوران) وہی ماحول لازم ہو کہ جس میں ان تجربات کو پیش کرنے والے نے کیا تھا۔

سائنس کے مندرجہ بالا دو گروہوں علوم فطریہ اور علوم معاشرہ کے علاوہ ایک اور گروہ بھی ہے جو سائنس کے ان دونوں گروہوں سے مطابقت کے مقامات کے ساتھ کچھ افتراقات بھی رکھتا ہے اور اس گروہ کو قیاسی علوم formal science کہا جاتا ہے جس میں ریاضی mathematics، شمارندی علوم، نظریۂ اطلاعات اور احصاء statistics جیسے شعبہ جات شامل ہوتے ہیں۔

                                     

3. اسلوبِ سائنس

  • اسلوب علم scientific method۔

اسلوب علم اصل سائسی طریقۂ کار کو ہی کہتے ہیں جس میں فطرت nature کے اسرار و رموز اور مظاہر کو ایک قابل تکرار replicable انداز میں سمجھا جاتا ہے اور انکا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ پھر اس مطالعے کے بعد حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں پیشگوئیاں کی جاتی ہیں جو مستقبل کی راہ اور مزید تحقیق کے لیے معاون ثابت ہوتی ہیں۔

بعض اوقات کسی بھی ایک سائنسی مطالعے کے دوران عقلی طور پر کوئی ایک نتیجہ آنے کا امکان دوسرے کی نسبت زیادہ بھی ہو سکتا ہے لیکن ایسے مواقع پر اسلوب علم کی موجودگی کے باعث سائنس دان اس قدر باضمیر افراد کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کی ذہنی لگاوٹ یا جذبے کو نظر انداز کرتے ہوئے اس سے تجربے یا اس کے نتیجے کو متاثر نہیں ہونے دیتے لہذا یہ اسلوب علم کی پیروی ہی ان کے کام کو قابل تکرار بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ذاتی لگاوٹ اور کسی بھی تعصب کے رجحانات کو ختم کردینا اسلوب علم کا ایک پہلو ہے، ساتھ ہی یہ تجربی نمونے experimental design میں بھی معاونت اور راہنمائی فراہم کرتا ہے اور ایک آخری پیمانے کے طور پر اس میں نظرِ ھمتا peer review کی موجودگی ؛ تجربہ، تجربے کے طریقۂ کار، استعمال کیے جانے والے آلات و کیمیائی مرکبات اور حاصل شدہ نتائج تک ہر پہلو کو قابل اعتبار و تکرار بنانے میں نہایت اہمیت رکھتی ہے۔

اسلوبات سائنس میں ایک بہت اہم اوزار، نمونوں models کی تشکیل ہوتی ہے جو کسی تصور یا منصوبے کی تصویرکشی یا وضاحت کرتے ہیں۔ سائنس دان اس نمونے کی تعمیر، جانچ پڑتال اور صحت پر بہت توجہ دیتے ہیں کیونکہ اس کی مدد سے ہی اصل تجربات ممکن ہوتے ہیں اور اسی کی مدد سے ایسی سائنسی پیشگوئیاں کی جاسکتی ہیں جو قابل تکرار ہوں۔ مفروضہ hypothesis اسلوبات سائنس میں ایک ایسی بات کو کہا جاتا ہے کہ جس کو ابھی تک تائید کی ناقابل تردید تجربی شہادتیں بھی میسر نہ ہوئی ہوں اور دوسری جانب اس کے غلط ہونے کے بارے میں بھی کوئی گذشتہ حتمی تحقیق نا موجود ہو، ایسی صورت میں مفروضہ، نمونے کی تیاری میں مدد دیتا ہے۔ نظریہ theory کو یوں بیان کرسکتے ہیں کہ یہ کئی مفروضات اور بیانات اکثر عام طور پر مانے جانے والے کا ایسا مجموعہ ہوتا ہے جن کو آپس میں منتطقی انداز میں جوڑا جا سکتا ہو یا جوڑا گیا ہو اور اس سے دیگر مظاہر فطرت کی وضاحت میں مدد حاصل ہوتی ہو، جیسے جوہری نظریہ۔ طبیعی قانون physical law ایک ایسے سائنسی اصول کو کہا جاتا ہے کہ جو گذشتہ مفروضات کے بعد تجرباتی مراحل سے گزر چکا ہو اور اس کے حق میں ناقابل تردید تجربی empirical شواہد موجود ہونے کے ساتھ قابل تکرار replicable شواہد بھی موجود ہوں۔

سائنسی اسلوب میں ایک اور اہم پہلو اس میں تحریضی inductive کیفیت کا ہونا ہے، یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ سائنس دنیا کے کسی مظہر کے بارے میں کسی بات کی جانب مائل کرتی ہے یا یوں کہ لیں کے اس کی ترغیب دیتی ہے اور اس کو تجربے سے ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سائنس کبھی کوئی مطلق دعویٰ نہیں کرتی اور ہمیشہ نئے شواہد و حقائق کے لیے اپنے اندر تحریف falsification کی گنجائش رکھتی ہے۔ اور اس مقصد کے لیے اوپر بیان کردہ مُراجعۂ ثانی peer review نہایت اہم ہے جس کی خاطر تمام معلومات کا دائرۂ عام میں ہونا اور ہر کسی کی رسائی میں ہونا لازمی ہے۔ تاکہ نا صرف یہ کہ نظر ثانی review کیا جاسکے بلکہ ساتھ ہی کسی ایک سائنس دان کے تجربے کو اس کا کوئی ھمتا peer دہرا کر اس کے قابل تکرار ہونے کا اندازہ کرسکے یا تصدیق کرسکے۔ ھمتا یا peer سے مراد یہاں ہم عصر سائنسدانوں سے ہے، یعنی کوئی ایسا سائنس دان جو اتنا ہی قابل ہو جتنا کہ تجربہ کرنے والا سائنس دان۔



                                     

4. ریاضی اور سائنس

سائنس اور ریاضی mathematics آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور سائنس کا کوئی شعبہ ایسا نہیں خواہ اس کا تعلق طبیعیات سے ہو یا علم کیمیاء سے، حیاتیات سے ہو یا وراثیات سے جو ریاضی کی مدد کے بغیر چل سکتا ہو۔ جیسا کہ تعارف کے بیان میں ذکر آیا کہ عام طور پر ریاضی کو سائنس کے جس گروہ میں شامل کیا جاتا ہے اسے تشکیلی علوم کہتے ہیں، یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ بعض ذرائع ریاضی کو بنیادی یا خالص سائنس میں بھی شمار کرتے ہیں

ریاضی کی ہر ایک شاخ ہی سائنس کے دیگر شعبہ جات میں کام آتی ہے جن میں احصاء statistics، حسابان calculus سمیت ریاضی کی وہ شاخین بھی شامل ہیں جنہیں عام طور پر خالص ریاضی میں شمار کیا جاتا ہے مثال کے طور پر نظریۂ عدد number theory اور وضعیت topology وغیرہ۔

جس طرح ایک طبیب ایک سائنس دان بھی ہو سکتا ہے بالکل اسی طرح ایک ریاضی داں، بجا طور پر ایک سائنس دان ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ ان تمام تر اسلوب سائنس کی پیروی کر رہا ہوتا ہے جن کی مدد سے ہی سائنسی نمونے، تجربی نمونے، مفروضے اور سائنسی پیشگوئیاں ممکن ہوتی ہیں۔

                                     

5. فلسفۂ سائنس

فلسفۂ سائنس اصل میں سائنس کی بنیادوں، اس میں قائم مفروضات، اس کے تجربات کی حقیقت اور تجربات سے حاصل ہونے والے نتائج کی حقیقت اور ان نتائج یا سائنس کے اخلاقی کردار اور زندگی میں اس کے اطلاقات جیسے موضوعات سے بحث رکھتا ہے۔ اس کو بنیادی طور پر دو ذیلی شعبہ جات میں تقسیم کیا جاتا ہے، اول ؛ علمیات یا معلوماتشناسی جس کو انگریزی میں epistemology کہتے ہیں اور دوم ؛ مابعد الطبیعیات جسے انگریزی میں metaphysics کہا جاتا ہے۔ ان میں علمیات تو علم سائنس کی حیققت کی تلاش کو کہتے ہیں جبکہ مابعد الطبیعیات پھر اس حقیقت کی فطرت کا کھوج لگانے کو کہا جاتا ہے، انکی مزید تفصیل کے لیے ان کے صفحات مخصوص ہیں۔ فلسفۂ سائنس وہ مقام ہے کہ جہاں اکثر سائنس اور ناسائنس کے مابین حدود معدوم ہی ہوجاتی ہیں۔

فلسفۂ سائنس کے مطابق سائنس ایک ایسے تجزیات یا حقائق کا نام ہے کہ جنہوں نے شواہداتی بنیادوں پر ہماری حسوں کو تحریک دی ہو یعنی کسی بھی متعلقہ مظہر قدرت کو اس کے طبیعی شواہد کی بنا پر محسوس کیا گیا ہو۔ یہاں حس مشاہدے کا طبیعی یا فطری ہونا لازم ہے کیونکہ اگر کوئی چیز طبیعی کیفیات سے بلند ہو تو پھر اسے سائنس نہیں مافوق الفطرت supernatural کے زمرے میں رکھا جاتا ہے اور تصوراتی سمجھا جاتا ہے جب تک کہ اس کی انسانی سمجھ کے مطابق وجوہات اور اس کے وجود کی توجیہ کے بارے میں شواہد نا مل جائیں۔

کئی راہنما اصولوں جیسے تیغِ اوکام Occams razor کا اصولِ بخل parsimony) سے استفادے کہ بعد سائنسی نظریات کو منطق اور توجیہات کے پیمانوں سے تراشہ جاتا ہے اور پھر کانٹ چھانٹ کے بعد وہی نظریات یا نظریہ قابل قبول حیثیت میں قائم رہ جاتا ہے کہ جس کے بارے میں سب سے واضع اور ٹھوس شواہد میسر آچکے ہوں۔

                                     
  • قرآن اور جدید سائنس یا اسلام اور سائنس دراصل اسلام اور جدید سائنس کی آپس میں وابستگی ربط اور موافقیت کو کہا جاتا ہے اور مسلمانوں کا یہ دعوی ہے کہ اسلام
  • سائنس کی روسی اکادمی روسی: Росси йская акаде мия нау к روس کی قومی اکادمی اور سائنسی تحقیقی مجالس کے جال پر مشتمل ہے جو روسی وفاق بھر میں پھیلے ہوئے
  • سائنس دان ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو ایک منظم سرگرمی کے ذریعے قدرتی دنیا کی وضاحت اور پیش گوئی کا علم حاصل کرتا ہے دوسرے الفاظ میں سائنس دان ایک ایسا شخص
  • علم کمپیوٹر یا کمپیوٹر سائنس انگریزی: Computer Science دراصل معلومات اور تخمین کے بارے میں نظریاتی مطالعے اور کمپیوٹری نظام میں ان کے اجرا اور نفاذ
  • 1. سائنس سے ملیے 2. سائنس کی جانب دوسرا قدم 3. سائنسدان کیسے بنتے ہیں سائنس کو اردو میں علم کہتے ہیں اور علم کا مطلب ہوتا ہے جاننا یا آگہی حاصل کرنا
  • ڈاکٹر موریس بوکائلے کی شہرہ آفاق کتاب بائیبل قرآن اور سائنس جو انھوں نے فرانسسی میں لکھی اور اس کے متعدد زبانوں میں ترجمہ میں ہو چکے ہیں اس میں انھوں
  • اردو سائنس انسائیکلوپیڈیا اردو زبان میں دس جلدوں پر مشتمل سائنسی دائرۃ المعارف ہے جو پاکستان سے اردو سائنس بورڈ نے شائع کیا ہے یہ آرٹ پیپر رنگین طباعت
  • انجئیرنگ کمپیوٹر سسٹم انجئیرنگ پاور انجئیرنگ الیکٹریکل ٹیکنالوجی کمپیوٹر سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمسٹری فزکس میتھیمٹکس باٹنی زووالوجی مائیکرو ٹیکنالوجی
  • بھارت میں ہر سال فروری کی 28 تاریخ کو سائنس کا قومی دن منایا جاتا ہے اس کا پس منظر بھارتی ماہر طبیعیات سر چندرشیکھر وینکٹ رمن کی جانب سے اسی دن 1928ء
                                               

علی بن منصور الکرمی

علی بن منصور الکرمی فلسطینی سائنس دان، فقیہ، الٰہیات دان، منصف، مفتی تھے۔ آپ سعید بن علی کرمی کے والد تھے۔

                                               

محمدیہ یونیورسٹی آف ماگیلانگ

محمدیہ یونیورسٹی آف ماگیلانگ ایک نجی یونیورسٹی ہے، جو محمدیہ تنظیم سے تعلق رکھتی ہے۔ یونیورسٹی کی بنیاد ماگیلانگ ، وسطی جاوا ، انڈونیشیا میں 31 اگست ، 1964 کو رکھی گئی تھی۔

                                               

عبد الرحمن بن کیسان

عبد الرحمٰبن کیسان العاصم ایک معتزلی فقیہ ، متکلم اور مفس رہے ہیں ، قاضی عبد الجبار نے طبقہ سادسہ شمار کیا ، بہروں نے معتجلی اصول کے اطلاق کے ایک بنیادی پہلو میں متٹجا سے اختلاف نہیں کیا جس کو "بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا" کہا جاتا ہے ، کیونکہ وہ تلوار کے استعمال پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ بلکہ ، اس نے استدلال کیا کہ امام کو اس کے ساتھ تکلیف نہیں دی جانی چاہیے اور اگر سلامتی اور عدل و انصاف موجود ہے تو اسے اس سے روکا جاسکتا ہے۔ ابن تیمیہ نے اس کے بارے میں کہا: