Back

ⓘ فرصت, نظم. نظم کا انگریزی متن یہ ہے: What is this life if, full of care, We have no time to stand and stare. No time to stand beneath the boughs And stare as lo ..




                                     

ⓘ فرصت (نظم)

نظم کا انگریزی متن یہ ہے:

What is this life if, full of care, We have no time to stand and stare. No time to stand beneath the boughs And stare as long as sheep or cows. No time to see, when woods we pass, Where squirrels hide their nuts in grass. No time to see, in broad daylight, Streams full of stars, like skies at night. No time to turn at Beautys glance, And watch her feet, how they can dance. No time to wait till her mouth can Enrich that smile her eyes began. A poor life this if, full of care, We have no time to stand and stare.
                                     
  • یونیورسٹی سے بی کام کی سند حاصل کی اور پنجاب پبلک لائبریری سے وابستہ ہو گئے فرصت کے اوقات میں لکھنے لکھانے کا کام کرتے رفتہ رفتہ ان کے مضامین رسالوں اور
  • گوش سے سنتا ہوا مبہم سا شرار میری منزل ہے کہا یہ کبھی سوچا ہی نہیں اس کی فرصت ہی کسے دل میں مگر رہتا ہے درد وہ درد کہ ہے جس سے کمنا بیتا جانے کچھ راہ مرے
  • ظاہر کیا انہوں نے سائرہ کے فوٹو شوٹ کا نظم کیا اور ایک ہداہتکار کر ان کا پورٹفولیو پیش کردیا ہدایتکار نے پہلی فرصت میں سائرہ کو اپنے نئے پروجیکٹ میں کام
  • کرتے ہیں وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے آگے چل کر علامہ اقبال مسلمانوں کو دعوت عمل دیتے ہیں یہ نظم کا آخری حصہ ہے
  • پرتگالی قبضے کو تسلیم کر لیا لیکن پرتگالیوں نے اپنے حلیف شاہ اسمائیل کو یہ فرصت ہی کب دی تھی کہ وہ فائدہ اٹھاتا لیکن شاہ اسماعیل کی یہ پالیسی پرتگالیوں کے
  • استفادہ کے لیے جتنے ریسرچ اسکالرس وہاں جاتے ہیں انہیں کبھی فہرست پڑھنے کی فرصت نہیں ملتی اور اس کی ضرورت بھی کیا ہے جبکہ چلتی پھرتی انسائیکلوپیڈیا وقار
  • کو سمجھ کر بیٹھے ہیں اب دنیا دنیا کون کرے ملے غم سے اپنے فرصت تو سنائیں وہ فسانہ کہ ٹپک پڑے نظر سے مئے عشرت زمانہ یہی زندگی مصیبت یہی
  • ورثے میں ملا ہوا تخت ہمایوں کے لیے پھولوں کی سیج ثابت نہ ہوا بابر کو اتنی فرصت ہی نہ ملی کہ وہ اپنی پوزیشن اور حکومت کو مجتمع و مستحکم کرتا اور یہی غیر
  • گیا ہے کہ دونوں بلند پایہ مزاح نگار ہیں غالب کو مرنے کی فرصت نہ تھی اور پطرس کو جینے کی فرصت نہ مل سکی ایک کو اپنے مزاح نگار ہونے کا علم نہ ہو سکا اور
  • عصر مشاہیر کے مشترک مربیوں اور رفیقوں وغیرہ کی جامع و مکمل فہرست جس محنت و فرصت کی طالب ہے اس کے لیے سر دست ہمارے پاس وقت نہیں ہم غالب و سید احمد خاں کے
  • تمہارے واسطے ظاہر اور باطن کا ایک خزانہ ہے اور اگر طالب جمع ہوا کریں اور فرصت ہوا کرے تو بعد عصر کے سب کے سامنے پڑھا کرنا اور بجائے مرشد اور مربی کے ہے