Back

ⓘ پاکستانی فلمیں ..




                                               

چل سو چل

چل سو چل پنجابی زبان میں فلم کا آغاز کیا۔ فلم كى نمائش 9 جون، 1986ء كو ہوئى یہ فلم ایکشن اور موزیکل فلموں پر مبنی ہے۔ یہ فلم پاکستان کے باکس آفس میں فلوپ ہوئی تھی، فلم کے ہدایتکار اور فلمسازی یونس ملک کی تھی۔ اس فلم کے گیتوں کے موسیقار وجاہت عطرے تھے۔ اس فلم میں گیت پاکستان کے مشہور و معروف گلوکاروں نورجہاں، ریشماں اور ناہید اختر نے گائے۔ فلم کی لسٹ ریکارڈنگ میں شامل سہیل نجمی، ایم ظفر اور ادریس بھٹی انہوں نے گیتوں کی بہترین ریکارڈنگ کی اور نغمات شاعر وارث لدھیانوی کی طرف سے دھنیں بنے ہوئے تھے۔ چل سو چل آئی ایم ڈی بی پر انگریزی میں چل سو چل ” پاکستان فلم میگزین" ◄ پر چل سو چل ” فلم موشن پک ...

                                               

اکبر خان

اکبرخان پنجابی زبان میں فلم کا آغاز کیا۔ فلم كى نمائش 9 جون، 1986ء كو ہوئى یہ فیملی ڈراما اور ایکشن فلموں کی بنیاد پر فلم مبنی ہے۔ یہ فلم پاکستان کے باکس آفس میں سپرہٹ ہوئی تھی، فلم کے ہدایتکار حسن عسکری تھے۔ فلمسازی کی تھی شان مصطفٰے۔ اس فلم کے گیتوں کے موسیقار وجاہت عطرے تھے۔ اس فلم میں گیت پاکستان کے مشہور و معروف گلوکاروں نورجہاں نے گائے۔ فلم کی لسٹ ریکارڈنگ میں شامل ایم ظفر، ایم سعید انہوں نے گیتوں کی بہترین ریکارڈنگ کی اور نغمات شاعر وارث لدھیانوی، خواجہ پرویز کی طرف سے دھنیں بنے ہوئے تھے۔ اکبر خان آئی ایم ڈی بی پر انگریزی میں اکبر خان ” پاکستان فلم میگزین" ◄ پر اکبر خان ” فلم ڈیٹابی ...

                                               

شیش ناگ (پنجابی فلم)

شیش ناگ پنجابی زبان میں فلم کا آغاز کیا۔ فلم كى نمائش 16 اگست، 1985ء كو ہوئى یہ سماجی ڈراما اور ایکشن فلموں کی بنیاد پر فلم مبنی ہے۔ یہ فلم پاکستان کے باکس آفس میں اوسط ہوئی تھی، فلم کے ہدایتکار امتیاز قریش تھے۔ فلمسازی کی تھی آغا امتیاز علی خان۔ اس فلم کے گیتوں کے موسیقار وجاہت عطرے تھے۔ اس فلم میں گیت پاکستان کے مشہور و معروف گلوکاروں نورجہاں، ناہید اختر اور افشاں نے گائے۔ فلم کی لسٹ ریکارڈنگ میں شامل یوسف علی شاہ، ایم ظفر اور ایم ادریس انہوں نے گیتوں کی بہترین ریکارڈنگ کی اور نغمات شاعر خواجہ پرویز کی طرف سے دھنیں بنے ہوئے تھے۔ ”فرمان گنج بخش - جھوٹ رزق کو کھا جاتا ہیں" ۔ ”فرمان خدا - ج ...

                                               

دو ضدی

دو ضدی پنجابی زبان میں فلم کا آغاز کیا۔ فلم كى نمائش 3 جون، 1983ء كو ہوئى یہ فیملی ڈراما اور ایکشن فلموں کی بنیاد پر فلم مبنی ہے۔ یہ فلم پاکستان کے باکس آفس میں فلوپ ہوئی تھی، فلم کے ہدایتکار یونس راٹھور تھے۔ فلمسازی کی تھی چوہدری عبدالقیوم۔ اس فلم کے گیتوں کے موسیقار وجاہت عطرے تھے۔ اس فلم میں گیت پاکستان کے مشہور و معروف گلوکاروں نورجہاں، ناہید اختر، افشاں اور مہناز نے گائے۔ فلم کی لسٹ ریکارڈنگ میں شامل ادریس بھٹی انہوں نے گیتوں کی بہترین ریکارڈنگ کی اور نغمات شاعر حزیں قادری، خواجہ پرویز کی طرف سے دھنیں بنے ہوئے تھے۔ دو ضدی ” پاکستان فلم میگزین" ◄ پر دو ضدی آئی ایم ڈی بی پر انگریزی میں ...

                                               

آخری قربانی

آخری قربانی پنجابی زبان میں فلم کا آغاز کیا۔ فلم كى نمائش 4 ستمبر، 1981ء كو ہوئى یہ فلم میں برِصغیر پاک و ہند میں انگریز دور حکومت کے سچے واقعات پر مبنی ہے۔ فلم کے ہدایتکار ظہور حسین تھے۔ فلمسازی کی تھی سید منظور حسین۔ س فلم کے گیتوں کے موسیقار ملک صدیق تھے۔ اس فلم میں گیت پاکستان کے مشہور و معروف گلوکاروں نور جہاں، ناہید اختر، شمسہ کنول، مسعود رانا، سائیں اختر اور عارف لوہار نے گائے۔ فلم کی لسٹ ریکارڈنگ میں شامل اسلم چوہدری انہوں نے گیتوں کی بہترین ریکارڈنگ کی اور شاعر سعید گیلانی، نذیر آتش کی طرف سے دھنیں بنے ہوئے تھے۔ آخری قربانی آئی ایم ڈی بی پر انگریزی میں آخری قربانی ” پاکستان فلم می ...

                                               

آڈر

آڈر پنجابی زبان کی پاکستانی فلم ہے۔ فلم كى نمائش 5 اکتوبر، 1979ء كو ہوئى یہ ہنگامہ خیز فلم کے بارے میں فلم کی تکمیل کی گی ہیں۔ اس فلم کے ہدایت کا ظہور حسین ہیں۔ اور فلم ساز سید منظور حسین تھے۔اس فلم کی موسیقی صدیق اختر نے ترتیب دی جبکہ نغمات مشہور شاعر خواجہ پرویز اور سعید گیلانی نے تحریر کیے۔ اس فلم میں پاکستان کے مشہور و معروف گلوکاروں ناہید اختر اور مہناز بیگم نے گیت گائے۔ آڈر ” پاکستان فلم میگزین" ◄ پر آڈر آئی ایم ڈی بی پر انگریزی میں آڈر ” فلم موشن پکچر آرکایو آف پاکستان" ◄ پر آڈر ” فلم ڈیٹابیس" ◄ Citwf پر

                                               

انسانیت کے دشمن (فلم)

انسانیت کے دشمن ، اردو زبان میں ریلیز ہونے والی 1990ء کی سپر ہٹ پاکستانی فلم تھی۔ اس فلم کو سال 1990ء کی بہترین فلم کا نگار ایوارڈ ملا۔ اس فلم کے فلم ساز طارق بٹ، ہدایت کار حسنین، کہانی کار ناصر ادیب، موسیقار ایم اشرف، نغمہ نگار سعید گیلانی، عکاس سلیم بٹ اور تدوین کار زیڈ اے زلفی تھے۔

                                               

انٹرنیشنل لٹیرے

سلطان راہی افضل خان صائمہ ہمایوں قریشی البیلا نرگس عاصم بخاری دیبا قوی خان مدیحہ شاہ غلام محی الدین ندیم بیگ یہ فلم گوجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آباد اور راولپنڈی اور ملتان میں مقبولیت کے حساب سے سلور جوبلی منائی۔ یہ فلم اس کے دوسرے رن پر لاہور اور کراچی میں گولڈن جوبلی اور ڈائمنڈ جوبلی منائی۔ یہ فلم بھی اس کے تیسرے رن پر لاہور اور حیدرآباد، سندھ میں سلور جوبلی منائی۔

                                               

اچا شملہ جٹ دا

اُچا شملہ جٹ دا ‏ پنجابی زبان میں فلم کا آغاز کیا۔ فلم كى نمائش 10 اگست، 1984ء كو ہوئى۔ پاکستانی ایک ڈراما سپرہٹ فلم ہے۔ سلطان راھی نے اسے ایوریج پنجابی فلموں کا درجہ دیا۔ اس فلم کے ہدایتکار اسلم ایرانی تھے۔ فلمساز تیار کردہ وہ بھی طفیل عمران تھے۔ فلم کے اداکاروں میں سے منفرد کردار دیکھے سلطان راہی، رانی، اقبال حسن، افضال احمد تھے۔ اچا شملہ جٹ دا ” پاکستان فلم میگزین" ◄ پر

                                               

اک مداری

اک مداری‎ ‎فلم ‎ ‎1973 کو لاہور کے ریجنٹ سنیما میں ریلیز ہوئی اور کافی کامیاب‎ ‎کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اسے خود علاؤ الدین نے ڈائریکٹ کیا

جگا گجر
                                               

جگا گجر

جگا گجر ‏ پنجابی زبان میں فلم کا آغاز کیا۔ فلم كى نمائش 26 ستمبر، 1976ء كو ہوئى۔ پاکستانی پلاٹینم جوبلی ایکشن فلم، جراٸم کے بارے میں فلم کی تکمیل کی گی ہیں۔ اس فلم کے ہدایتکار کیفی تھے۔ اور کی طرف سے فلمساز تیار کردہ چوہدری معراج دین. فلم کے اداکاروں نے اپنی اداکاری کے جوہر دیکھے۔ ان اداکاروں کے منفرد کردار سلطان راہی، کیفی، عنایت حسین بھٹی، ننھا تھے۔ جگا گجر ” پاکستان فلم میگزین" ◄ پر جگا گجر ” فلم موشن پکچر آرکایو آف پاکستان" ◄ پر جگا گجر ” فلم ڈیٹابیس" ◄ Citwf پر

                                               

سسی پنھوں (فلم)

سسی پنھوں سندھی زبان میں بنائی گئی پاکستانی فلم ہے جس کے پروڈیوسر سید اے ہارون ہدایت کار اکبر علی تھے۔ یہ فلم 30 مئی 1958ء کو رلیز ہوئی۔