Back

ⓘ دمڑی ہندوستان میں کانسی کا سکہ ہوا کرتا تھا۔ ایک پیسہ چار دمڑی کے برابر ہوتا تھا۔ دمڑی غالباً دام दाम سے ماخوذ ہے جو شہنشاہ اکبر کے زمانے میں تابنے کا ایک سکہ ہ ..




                                     

ⓘ دمڑی

دمڑی ہندوستان میں کانسی کا سکہ ہوا کرتا تھا۔ ایک پیسہ چار دمڑی کے برابر ہوتا تھا۔ دمڑی غالباً دام दाम سے ماخوذ ہے جو شہنشاہ اکبر کے زمانے میں تابنے کا ایک سکہ ہوا کرتا تھا۔ قوت خرید کے لحاظ سے یہ اپنے وقت کا چھوٹا ترین سکہ تھا۔

  • سعادت حسن منٹو کے افسانوں اور میر امن کی تصنیف باغ و بہار یعنی قصہ چہار درویش میں لفظ دمڑی استعمال ہوا ہے۔
  • کھڑی شریف میں مدفون پیرا شاہ غازی کو دمڑیاں والی سرکا رکہا جاتا ہے۔
                                     

1. محاورے

  • دمڑی نہ جائے چاہے چمڑی جائے۔
  • دمڑی کے تین تین۔
  • دمڑی کی بلبل ٹکا ہشکا ئی۔
  • دمڑی کی ہانڈی گئی کتوں کی ذات پہچانی گئی۔
  • اونٹ دمڑی کا اور دمڑی بھی پاس نہیں۔
  • دمڑی کی ہانڈی لیتے ہیں تو اسے بھی ٹھونک بجا کر لیتے ہیں۔
  • دمڑی کی بڑھیا ٹکہ سرمنڈائی۔
  • دمڑی کی دال بوا پتلی نہ ہو۔
  • دمڑی کی آمدنی نہیں گھڑی بھر کی فرصت نہیں۔
                                     
  • دربار کھڑی شریف بابا پیراشاہ قلندرعرف دمڑی والی سرکار ضلع میرپور آزاد کشمیر سے 6 کلومیٹر دریائے جہلم کے کنارے چیچیاں میں واقع ہے کھڑی شریف آزاد کشمیر
  • قدر سب سے کم تھی 3 پھوٹی کوڑیوں سے ایک کوڑی بنتی تھی اور 10 کوڑیوں سے ایک دمڑی علاوہ ازیں اردو زبان کے روزمرہ میں پھوٹی کوڑی کو محاورتا محتاجی کی علامت
  • دام پنجابی: دمڑی دمڑ ہندوستان کے قرون وسطی کے عہد کا ایک سکہ تھا جو تانبے کا ہوتا تھا 1540ء میں تخت ہندوستان پر شیر شاہ سوری متمکن ہوا ا س سال ہی
  • سے غافل رہیں گے اسے کم کر دیں دوبارہ فرمایا سوالاکھ روپے میں سے سوالاکھ دمڑی ایک پیسہ میں چاریاآٹھ دمڑیاں ہوتی تھیں آپ کی نذر ہو گی یہ ضرورت سے زیادہ
  • ہیں رومی کشمیر میاں محمد بخش نے برصغیر کے عظیم قلندر بابا پیرا شاہ غازی دمڑی والی سرکار کے حکم کی تعمیل میں کھڑی شریف سے ڈڈیال آ کر سائیں غلام محمد کے
  • سکونت کر کے میر پور میں جا بسے ان کا حسب نسب 4 پشتوں کے بعد پیرا شاہ غازی دمڑی والی سرکار سے جا ملتا ہے نسبا آپ فاروقی ہیں سلسلہ نسب فاروق اعظم پر ختم