Back

ⓘ بقا و فنا. تصوف کی اصطلاح، جو دراصل دو متضاد اور مختلف اصطلاحوں پر مشتمل ہے۔ لیکن دونوں ایک دوسری کی تکمیل کرتی ہیں۔ لغوی اعتبار سے بقاء و فناء کے معنی اور تصوف ..




                                     

ⓘ بقا و فنا

تصوف کی اصطلاح، جو دراصل دو متضاد اور مختلف اصطلاحوں پر مشتمل ہے۔ لیکن دونوں ایک دوسری کی تکمیل کرتی ہیں۔ لغوی اعتبار سے بقاء و فناء کے معنی اور تصوف کے معنی میں فرق ہے۔ لغت کے اعتبار سے بقاء کی تین قسمیں ہیں۔

اول:۔ وہ بقاء کہ کسی چیز کا اول بھی فناء میں ہو اور آخر بھی فناء میں ہو جیسا کہ یہ عالم ناسوت کہ ابتدا میں بھی نہ تھا انتہا میں بھی نہ ہو گا اور فقط اس وقت باقی ہے۔ اور پابند مکان و زمان ہے۔

دوم:۔ دوسرے وہ بقا کہ پہلے کبھی نہ تھی اور بعد میں موجود ہو گئی اور پھر کبھی فانی نہ ہوگی۔ جیسے بہشت، جہنم اور عالم عقبیٰ کے رہنے والے کہ ابتدا میں نہ تھے نیست سے ہست ہوئے اور ان کی ہستی پھر فناء یا نیست نہ ہوگی۔

سوم:۔ وہ بقاء جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی یعنی کوئی زمانہ ایسا نہ ہوا کہ وہ نہ تھی نہ کوئی وقت ایسا آئے گا کہ وہ نہ ہو وہ پابند مکان و زمان بھی نہیں۔ وہ ذات حق اور اس کی صفات ازلی و ابدی کی بقاء ہے وہ اپنی صفات کے ساتھ قدیم ہے اور اس کی بقاء سے مراد اس کا ہمیشہ رہنا ہے۔ کوئی بھی اس کی صفات میں اس کے ساتھ شریک نہیں۔

قرآن کریم میں ایک مقام پر یہ دونوں لفظ ایک ساتھ اس طرح بیان ہیں ” کل من علیها فان و یبقی وجه ربک ذوالجلال و الاکرام ” یعنی ‘ جو کچھ بھی ہے فناء ہو جانے والا ہے اور صرف تیرے پروردگار کی ذات کو بقاء ہے۔ جو بڑی ہی شان اور بزرگی والا ہے ‘۔

گویا فناء کا علم یہ ہے کہ انسان جان لے کہ دنیا و مافیہا فانی ہے۔ اور بقاء کا علم یہ ہے کہ اللہ رب العزت کی ذات کو سدا بقاء ہے اور جسے وہ چاہے جیسا کہ عالم عقبیٰ وغیرہ۔

لیکن اہل طریقت کی اصطلاح میں فناء و بقاء یہ ہے کہ جب جہالت ہو جائے تو ضرور علم باقی ہوتا ہے اور جب معصیت ہو تو ضرور طاعت باقی رہتی ہے۔ اور جب بندہ اپنی بندگی کا علم حاصل کر لیتا ہے تو ذکر حق کی بقاء سے اس بندے کی غفلت فناء ہو جاتی ہے۔ فناء و بقاء ان کے نزدیک برے اوصاف کو ساقط کر کے نیک صفات پر قائم رہنا ہے۔

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق ” فناء و بقاء ” کی اصطلاح نافذ کرنے والا سعید الخزار ہے۔ ان کے بقول فناء سے مراد بندہ کو اپنی بندگی کو دیکھنے سے فانی ہو جانا اور بقا سے مراد بندہ کا مشاہدہ الہٰی کے ساتھ باقی رہنا ہے۔

                                     
  • بقا ایک کیفیت ہے یا ایک حال ہے جو اپنی حقیقت کو ذات خداوندی کے ساتھ وابستہ کرنے سے پیدا ہوتا ہے جبکہ بقا فناء کے بعد ہوتی ہے جیسے فنا عن المعاصی اور
  • اللہ ہوگئے فنا سے جڑی ہوئی کیفیت بقاء بھی ہے جیسے فنا عن المعاصی اور بقا الطاعتہ گناہوں سے فانی ہوجانا اور اطاعت پر باقی رہنا یا جہالت سے فنا حاصل کرنا
  • اعمال و عقائد کی عکاسی کرتا ہے یہ کتاب اصل میں انہوں نے اپنے صاحبزادے محمد عیسی کی تعلیم کے لیے تصنیف فرمائی اس کتاب میں فنا و بقا اور نفس و دل کے امراض
  • شود بعد از فنا بلکہ حاصل می شود بعد از بقا بعد ازیں غافل نہ باشد یک زباں خواہ باشد فرح و غم سود وزیاں در جماعت اولیاء داخل شودجملہ ط رق ا و واصل شود اس
  • طرح کہ جب خدا کو یاد کرے سر سے سے قدم تک خدا کی یاد باخبر ہو پوچھا گیا فنا و بقا کی بات کس کو کرنا مناسب ہے کہا اس شخص کو اگر اس کو ایک ریشمی تارسے آسمان
  • جس صوفی نے فنا و بقا کی اصطلاحات رائج کیں وہ حضرت ابوسعید خراز ہی تھے آپ فرمایا کرتے تھے کہ عنفوان جوانی میں اللہ تعالی نے مجھے ظاہری حسن و جمال سے نوازا
  • اہل قلم ڈائری کو مرتب کیا کلیات منظور عارف اور اردو غزل میں تصور فنا و بقا کے عنوانات سے کتابیں زیر طبع ہیں وہ اپنی نعتیں اور نیا مجموعہء غزل
  • ان کا عقیدہ ہے کہ عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا لیکن اقبال نے اس تمثیل کو فرد اور ملت کے درمیان ربط و تعلق ظاہر کرنے کے لیے استعما ل کیا ہے فرد
  • میں تیز رو کو کہتے ہیں مگر صوفیا میں اس شخص کو شطار کہا جاتا ہے جو فنا فی اللہ اور بقا باللہ کے رتبہ عالیہ کو حاصل کرے شیخ عبد اللہ ریاضات اور مجاہدات