Back

ⓘ تعلیم نسواں ، خواتین کی خواندگی اور عورتوں کی تعلیم وہ جامع اصطلاحات ہیں جو بہ طور خاص آبادی میں شامل خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم پر زور دیتے ہیں۔ یہ تعلیم مختلف ..



                                               

لیس میری ڈیجن

لیس-میری ڈیجن 1930ء کی دہائی میں پیدا ہوئی تھیں۔ اس نے معالج بننے کے لیے تعلیم حاصل کی اور ہیٹی کے غریب ، دور دراز علاقوں کی خواتین کی مدد کے لیے اپنی طبی مہارت کا استعمال کیا۔ خاص طور پر اس نے اعلی زچگی کی شرح اموات کی شرحوں کو دیکھا ، جس نے اسے ملک میں صنفی امتیاز کی شدت اور تولیدی حقوق کی کمی کو سمجھا۔بعد میں وہ ہیتی خواتین کی ایک بڑی تنظیم سولیڈیرائٹ فینم ایسیان سوفا کی سربراہ بن گئیں۔اس کردار میں ، اس نے ملک میں شہری کے بعد تخلیق کیا گیا تھا۔ وہ قومی خواتین کی وزارت کے اندر پہلی وزیر بن گئیں۔وزیر کے عہدے پر رہنے کے بعد ، اس نے تنقید کی ہے کہ وہ صنفی مساوات کے لیے مالی اعانت اور سیاسی ...

تعلیم نسواں
                                     

ⓘ تعلیم نسواں

تعلیم نسواں ، خواتین کی خواندگی اور عورتوں کی تعلیم وہ جامع اصطلاحات ہیں جو بہ طور خاص آبادی میں شامل خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم پر زور دیتے ہیں۔ یہ تعلیم مختلف درجات اور سطحوں کی ہو سکتی ہے۔ مثلًا کچھ آبادیوں میں، جو اب اگر چہ دنیا میں بہت کم ہیں، مگر وہاں پر لڑکیوں کو اسکولی تعلیم ممنوع ہے۔ کچھ جگہ پر روایتی تعلیم کی جگہ پر لڑکیاں گھر ہی میں کچھ پڑھنا لکھنا سیکھ لیتی ہیں جو ایک خاص مقصد کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ یہ مقصد مذہبی تعلیم ہو سکتا ہے یا پھر گھریلو ضروریات کی تکمیل سے متعلق ہو سکتا ہے، جیسے کہ پکوان کی کتابیں یا خیاطی سے متعلق کتابیں۔ کچھ کتابیں لڑکیوں میں معمولی درجے کا سہی، مگر ضروری ہنر پیدا کرتی ہیں، جیسے کہ حنا یا مہندی ڈالنے سے متعلق تعلیم۔ کچھ گھریلو میں روایتی تعلیم نسواں کا تصور صرف اسکول کی تعلیم پر ہی محیط ہوتا ہے۔ اس میں کالج کی سطح کی تعلیم شامل نہیں ہوتی۔ اس کی بنیادی طور پر دو وجوہ ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ لوگ لڑکی کو گھر میں روزگار کمانے والا فرد نہیں بنانا چاہتے۔ دوسرے یہ تصور ہوتا ہے کہ محدود خواندگی کے باوجود وہ لڑکیاں جو اپنی اسکولی تعلیم مکمل کرتی ہیں، آگے چل کر اپنے خود کے بچوں کی پرورش اور ان کو اسکولی تعلیم کے دوران مدد کر سکتی ہیں۔ کچھ جگہوں پر عورتوں کو خاص طرز کی پیشہ ورانہ تعلیم پر زور دیا جاتا ہے۔ یہ تعلیم عمومًا تدریس کے شعبے سے متعلق ہوتی ہے۔ کیوں کہ یہ تصور ہوتا ہے کہ تدریسی عمل خواتین کی سرشت میں اور تدریس کا شعبہ عورتوں کے لیے اس اعتبار سے محفوظ ہے کہ اس میں انہیں کم سے کم گھومنا پھرنا پڑتا ہے، استحصال کا امکان اور پیشوں کے مقابلے کم ہوتا ہے اور آمدنی عمومًا طے شدہ انداز میں مل جاتی ہے۔ یہ صورت حال عام طور سے اسکول سے تعلق رکھتی ہے۔ اکثر اسکولی تدریسی عملہ زیادہ تر خواتین پر مشتمل ہوتا ہے۔ حالاں کہ تقریبًا یہی صورت حال کا لجوں کی بھی ہے۔ تاہم اسکول کے مقابلے میں عورتوں کی شرکت کالجوں کی تدریس میں کم ہے۔ کم ہی خواتین ایم فل یا پی ایچ ڈی کی سطح تک پہنچتی ہیں۔ صحت کے شعبے میں اگر دیکھا جائے تو اکثر دیکھا گیا ہے کہ اوسط درجے کی تعلیم یافتہ مگر تیمار داری کے شعبے میں پڑھی لکھی خواتین کی کثیر تعداد نرسوں کی شکل میں موجود ہے۔ طبی شعبے میں اعلٰی تعلیم حاصل کرنے والی خواتین دل چسپی رکھتی ہیں۔ تاہم تخصیصی طور امراض طفل یا امراض نسواں پر ان طبی پیشہ خواتین کی توجہ زیادہ ہوتی ہے۔

                                     

1. تعلیم نسواں کی اہمیت اقبال کی نظر میں

شاعر مشرق محمد اقبال عورت کو تمدن کی جڑ قرار دیتے ہیں۔ ان کی رو سے اگر دیکھا جائے تو یہ جڑہں یعنی ”عورتوں” کی صرف نگہداشت اور دیکھ بھال تعلیم کے ذریعہ ہی ہو سکتی ہے۔ اگر عورت کو تعلیم دی جائے گی تو تمدن کا درخت بار آور ہوگا وہ پھولے گا، پھلے گا، ورنہ نہیں۔

Free and no ads
no need to download or install

Pino - logical board game which is based on tactics and strategy. In general this is a remix of chess, checkers and corners. The game develops imagination, concentration, teaches how to solve tasks, plan their own actions and of course to think logically. It does not matter how much pieces you have, the main thing is how they are placement!

online intellectual game →