Back

ⓘ عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل ہونے والے مقامات کا تعین کرتی ہے۔ یہ 21 ریاستی جماعتوں پر مشتمل ہے جنہیں چار سالہ مدت کے ..




عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی
                                     

ⓘ عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی

عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل ہونے والے مقامات کا تعین کرتی ہے۔ یہ 21 ریاستی جماعتوں پر مشتمل ہے جنہیں چار سالہ مدت کے لیے ریاستی جماعتوں کی جنرل اسمبلی منتخب کرتی ہے۔

                                     

1. بیرونی روابط

  • The World Heritage List – official searchable list of all Inscribed Properties
  • UNESCO World Heritage portal – official website انگریزی میں فرانسیسی میں
                                     
  • تعلیمی سائنسی و ثقافتی ادارے یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کی مرتب کردہ فہرست کے لیے نامزد یا اس میں شامل کیا گیا ہو یہ منصوبہ ثقافتی یا قدرتی اہمیت
  • پنوم پن میں ہونے والی یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کی 37 ویں سالانہ میٹنگ میں یو نیسکو کی جانب سے عالمی انسانی ورثہ کے طور پر رجسٹر کر لیا گیا تھا
  • یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست انگریزی: List of World Heritage Sites in Israel کی فہرست ہے جسے یونیسکو نے نامزد کیا ہے اس فہرست میں ثقافتی اور قدرتی
  • 2005 میں مینار واقع ہے جہاں پرانا ارگنچ کے کھنڈرات کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ سائٹس کی فہرست میں لکھا گیا تھا قتلغ تیمور مینار کا تعلق گیارہ سے
  • کے کنارے زاہدان - زابل سڑک کے پاس ہے اسے جون 2014 میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں رکھا گیا تھا شہر کے غیر متوقع عروج و زوال کی وجوہات
  • دفعہ عام عوام کے لیے کھولا گیا 1998ء میں یونیسکو نے اسے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کر لیا جنت کا مندر جنت کا مندر جنت کا مندر جنت
  • ثقافتی پالیسی کے فیصلے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی اس وقت مہاراشٹر کی ثقافتی پالیسی کا فیصلہ کرنے کے لئے پہلی بار کوشش کی گئی تھی ریاستی ثقافتی
  • تھی مسجد عیسی خان مزار کی مغربی سمت یونیسکو کی جانب سے بین الاقوامی ثقافتی ورثہ قرار دیے گئے ہمایوں کے مزار اور اس کے احاطے میں موجود دیگر عمارتوں کے
  • پانی کی نہریں آبشاریں اور فوارے شامل ہیں. یونیسکو کی بین الاقوامی ثقافتی ور کمیٹی نے اس باغ کی خوبصورتی اور اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو 30 اگست 1981