Back

ⓘ پنجاب، بھارت میں تعلیم. پنجاب میں تعلیم کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ پنجاب میں بھارت کے بے شمار مشہور تعلیمی ادارے، اسکول، کالج اور جامعات موجود ہیں جبکہ پنجاب ایگریک ..



                                               

گورنمنٹ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل، چنڈی گڑھ

گورنمنٹ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل، چنڈی گڑھ ایک طبی درس گاہ ہے جو چنڈی گڑھ، بھارت میں قائم ہے۔ یہ طبی درس گاہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر انتظام ہے۔ اس کی تاسیس 1991ء میں ہوئی تھی اور اس کے کیمپس کا رقبہ 36 ایکڑ ہے۔ یہ سیکٹر 32، چنڈی گڑھ میں واقع ہے۔

                                               

اسلامی تعلیمی اداروں کی فہرست

نوآبادیاتی دور سے پہلے قائم ہونے والے ادارے اور جو ابھی بھی چل رہے ہیں: دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ، اتر پردیش، بھارت باقیات صالحات عربی کالج، ویلور، بھارت جامعہ مستنصریہ، بغداد، عراق جس کا ایک حصہ مدرسہ مستنصریہ ہے۔ مدینہ یونیورسٹی، مدینہ، سعودی عرب جامعہ ام القری، مکہ، سعودی عرب خانقاہ رحمانی مونگیر، مونگیر، بہار، بھارت نظامیہ المعھد العالی پٹنہ، پٹنہ، بہار، بھارت جامعہ زیتونہ، تونس شہر، تونس جامعہ عالیہ ، کولکاتا ، مغربی بنگال جامعہ الازہر، قاہرہ، مصر دار العلوم وقف دیوبند دار العلوم منظر اسلام، بریلی، اتر پردیش، بھارت جامعۃ الرضا بریلی، اتر پردیش، بھارت امارت شرعیہ پٹنہ، پٹنہ، بہار، ...

پنجاب، بھارت میں تعلیم
                                     

ⓘ پنجاب، بھارت میں تعلیم

پنجاب میں تعلیم کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ پنجاب میں بھارت کے بے شمار مشہور تعلیمی ادارے، اسکول، کالج اور جامعات موجود ہیں جبکہ پنجاب ایگریکلچرل یونیورسٹی دنیا کی بلند پایہ زرعی یونیورسٹیوں میں شمار کی جاتی ہے۔

                                     

1. ابتدائی تعلیم

حکومت ہند نے بھارت میں چودہ سال کی عمر تک بچوں کی ابتدائی تعلیم پر اپنی پوری توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ نیز حکومت نے بچہ مزدوری پر بھی پابندی عائد کر دی ہے تاکہ بچے غیر محفوظ کاموں اور ہاتھوں میں پڑ کر اپنا مستقل نہ گنوا بیٹھیں۔ تاہم مفت ابتدائی تعلیم اور بچہ مزدوری پر پابندی کا نفاذ غربت اور معاشرتی حالات کی وجہ سے عملاً انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ابتدائی تعلیم کی اسی فیصد تسلیم شدہ اسکولیں حکومت کے زیر انتظام ہیں یا حکومت انہیں امداد دیتی ہے۔

تاہم وسائل کی ناقص فراہمی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر ابتدائی تعلیم کے یہ انتظامات ناقص کارکردگی پیش کر رہے ہیں، عمارتوں کی کمی اور معلمین کی عدم تربیت بھی اس نظام کے خلا کو مزید وسیع کر رہے ہیں۔ سنہ 2011ء میں حکومت ہند کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ابتدائی تعلیم کے 5.816.673 اساتذہ، جبکہ مارچ 2012ء کے مطابق ثانوی تعلیم کے 2.127.000 اساتذہ تھے۔ مفت اور لازمی تعلیم بچوں کا حق قانون 2009ء کے تحت 6 سے چودہ برس کے بچوں یا ساتویں جماعت تک پڑھنے کے لیے تعلیم کو مفت کر دیا گیا ہے۔

حکومت ہند کی جانب سے تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے گئے۔ سنہ 1994ء میں ضلعی تعلیم کی باز تازہ کاری پروگرام DERP شروع کیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ کل ہند سطح پر ابتدائی تعلیم کے موجودہ نظام کی اصلاح اور تازہ کاری کے ذریعہ ابتدائی تعلیم کو خوب فروغ دیا جائے۔ اس پروگرام کے لیے 85 فیصد سرمایہ مرکزی حکومت نے جبکہ بقیہ پندرہ فیصد سرمایہ ریاستی حکومتوں نے پیش کیا۔ اس پروگرام کے تحت 160000 نئے اسکول کھلے جن میں 84000 متبادل تعلیم کے اسکول تھے۔ متبادل تعلیم کے ان اسکولوں میں تقریباً 3.5 ملین بچوں کو تعلیم دی جاتی تھی۔ ان اسکولوں کو یونیسیف اور دیگر بین الاقوامی پروگرام کے تحت امدادیں دی جا رہی تھیں۔

ابتدائی تعلیم اسکیم کے تحت آخری تین برسوں میں کچھ صوبوں میں بڑے پیمانے پر بھرتی ہوئی جس کا مجموعی تناسب 93 سے پچانوے فیصد ہے۔ نیز عملہ میں قابل لحاظ اضافہ ہوا، بھرتی اور اضافہ کے یہ اقدامات اسی اسکیم کا حصہ تھے۔ تعلیم کے فروغ کے لیے موجودہ جاری اسکیم سروا شکشا ابھیان ہے جو دنیا کے بڑے تعلیمی اقدامات میں سے ایک ہے۔ گرچہ ان اسکیموں کے تحت بھرتی جاری ہے لیکن تعلیمی معیار بدستور پستی کا شکار ہے۔

                                     

2. ثانوی تعلیم

سنہ 1986ء کی قومی حکمت عملی برائے تعلیم NPE نے بھارت کے ثانوی تعلیمی نظام میں ماحولیات کے تئیں بیداری کی اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم اور یوگا جیسے دیگر روایتی عناصر کو فروغ بخشا۔ سنہ 2011ء کی مردم شماری کے مطابق ثانوی تعلیم کے تحت 14 سے 18 برس کے 88.5 ملین بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔

بھارت کے ثانوی نظام تعلیم کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں معاشرے کے پسماندہ طبقوں پر پوری توجہ دی جاتی ہے۔ طلبہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے اکثر بڑے اداروں کے ماہرین کو بلایا جاتا ہے اور طلبہ کو پیشہ ورانہ تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں طلبہ کو اپنا میدان منتخب کرنے میں مشکل پیش نہ آئے۔ نیز راشٹریہ مادھمک شکشا ابھیان کے ذریعہ بھی ثانوی نظام تعلیم کو مزید موثر اور مفید بنانے کی کوشش جاری ہے۔

اجتماعی تعلیم برائے معذور اطفال IEDC کے نام سے ایک خصوصی پروگرام سنہ 1974ء میں شروع کیا گیا تھا۔ اس میں ابتدائی تعلیم پر زیادہ توجہ دی گئی تھی۔ تاہم اس کے اثرات ثانوی تعلیم پر بھی مرتب ہوئے۔ دوسرا اہم اور معروف پروگرام کیندری ودیالیہ کا منصوبہ ہے جو بھارت کی مرکزی حکومت کے اہلکاروں اور ملازمین کے لیے شروع کیا گیا اور پورے بھارت میں اس کی تعلیم گاہیں کھل گئیں۔ سنہ 1965ء میں شروع ہونے والے اس منصوبہ میں حکومت نے اس بات کا خصوصی اہتمام کیا کہ کیندری ودیالیہ کی تمام تعلیم گاہوں میں یکساں نصاب تعلیم ہو اور تمام اسکولوں کے اسباق اور نصاب یکساں رہے تاکہ اگر کسی ملازم کا دوسرے شہر میں تبادلہ ہو جائے تو اس کے بچوں کا درسی نقصان نہ ہو اور ان کے اسباق دوسری اسکول میں بھی وہیں سے شروع ہوں جہاں سے انہوں نے پچھلی اسکول میں چھوڑا تھا۔

                                     

3. ثلثی تعلیم

پنجاب میں اعلیٰ تعلیم کے بہت سے ادارے موجود ہیں جن کی فہرست ذیل میں درج ہے۔ ان اداروں میں عہد حاضر کے تمام شعبے فنون لطیفہ arts، بشریات humanities، سائنس، انجینئری، طب، قانون اور کاروبار کے نصاب گریجویٹ اور مابعد گریجویٹ کی سطح تک پڑھائے جاتے ہیں۔ مختلف شعبوں میں اعلیٰ تحقیق کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ پنجاب زرعی یونیورسٹی Punjab Agricultural University زراعت کے میدان میں دنیا کی اہم اور مستند ترین جامعات میں شمار ہوتی ہے۔ اس یونیورسٹی نے 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں پنجاب کے سبز انقلاب میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔

                                     

4.1. جامعات ریاستی

  • پنجاب یونیورسٹی، چندی گڑھ پنجاب کی ریاستی یونیورسٹی
  • گرو نانک دیو یونیورسٹی، امرتسر
  • مہاراجہ رنجیت سنگھ اسٹیٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی، بٹھنڈا
  • راجیو گاندھی نیشنل یونیورسٹی آف لا، پٹیالہ
  • گرو روی داس آیروید یونیورسٹی، ہوشیارپور
  • گرو انگد دیو ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز یونیورسٹی، لدھیانہ
  • بابا فرید یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، فریدکوٹ
  • پنجابی یونیورسٹی، پٹیالہ
  • آئی کے گجرال پنجاب ٹیکنیکل یونیورسٹی, جالندھر
  • پنجاب ایگریکلچرل یونیورسٹی، لدھیانہ
                                     

4.2. جامعات تسلیم شدہ

  • تھاپڑ یونیورسٹی، پٹیالہ تسلیم شدہ
  • سنت لونگوال انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لونگوال تسلیم شدہ
                                     

4.3. جامعات نجی

  • شری گرو گرنتھ صاحب ورلڈ یونیورسٹی، فتح گڑھ صاحب
  • اکال یونیورسٹی
  • سنت بابا بھگ سنگھ یونیورسٹی، جالندھر
  • اپی جے انسٹیٹیوٹ آف مینیجمنٹ ٹیکنیکل کیمپس، جالندھر پنجاب
  • ڈی اے وی یونیورسٹی، جالندھر
  • گرو کاشی یونیورسٹی, تلونڈی سابو
  • جی این اے یونیورسٹی، پھگواڑا
  • جی ایس کالج آف ماڈرن ٹیکنالوجی، کھرڑ
  • انڈین اسکول آف بزنس، اجیت گڑھ
                                     

4.4. جامعات نامور کالج تکنیکی /پیشہ ورانہ

  • یونیورسل گروپ آف انسٹی ٹیوشنز، لالرو
  • انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ، موہالی
  • گلوبل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز، امرتسر
  • دیش بھگت گروپ آف انسٹی ٹیوشنز، گوبند گڑھ، موگا، مکتسر دیش بھگت یونیورسٹی کے تحت
  • گیانی ذیل سنگھ پنجاب ٹیکنیکل یونیورسٹی کیمپس گورنمنٹ انجینئری کالج، بٹھنڈا
  • اپی جے انسٹیٹیوٹ آف مینیجمنٹ ٹیکنیکل کیمپس، جالندھر پنجاب
  • انڈین انسٹی ٹیوٹ آف امرتسر
  • انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، روپڑ
  • ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، جالندھر
  • انسٹی ٹیوٹ آف نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آئی این ایس ٹی، موہالی
                                     

5. قابل ذکر شخضیات

  • سابقہ وزیراعظم بھارت، ڈاکٹر منموہن سنگھ نے جامعہ پنجاب، چندی گڑھ، اوکسفرڈ اور کیمبرج، برطانیہ سے تعلیم حاصل کی۔
  • بی جے پی کی رہنما سشما سوراج نے پنجاب یونیوسٹی سے تعلیم کی۔
  • ہر گوبند کھرانا، نامور نوبل انعام یافتہ نے حیاتی کیمیا کی تعلیم پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔
Free and no ads
no need to download or install

Pino - logical board game which is based on tactics and strategy. In general this is a remix of chess, checkers and corners. The game develops imagination, concentration, teaches how to solve tasks, plan their own actions and of course to think logically. It does not matter how much pieces you have, the main thing is how they are placement!

online intellectual game →