Back

ⓘ 2016ء ڈھاکہ حملہ. 1 جولائی 2016 کی رات 21:20 مقامی وقت کے مطابق سات عسکریت پسندوں نے ڈھاکہ بنگلہ دیش کے گلشن کے علاقے میں موجود ہولی آرٹیسان بیکری پر فائرنگ شرو ..




2016ء ڈھاکہ حملہ
                                     

ⓘ 2016ء ڈھاکہ حملہ

1 جولائی 2016 کی رات 21:20 مقامی وقت کے مطابق سات عسکریت پسندوں نے ڈھاکہ بنگلہ دیش کے گلشن کے علاقے میں موجود ہولی آرٹیسان بیکری پر فائرنگ شروع کر دی۔ بم پھینکے اور کئی درجن لوگوں کو یرغمال بنا لیا اور دو پولیس اہلکاروں کو ایک جھڑپ میں مار ڈالا۔ وہ مبینہ طور پر اللہ اکبر!" چلاتے ہوئے رپورٹ کیے گئے تھے۔

17 غیر ملکیوں، دو پولیس اہلکاروں، چھ مسلح افراد کے ساتھ اٹھائیس افراد ہلاک ہو ئے۔

                                     

1. پس منظر

بنگلہ دیش کی آبادی 171 ملین، ایک ترقی پزیر ملک ہونے ساتھ اس کی جی ڈی پی فی کس آمدنی $1٫284 فی سال ہے۔ عسکریت پسند اسلامی تنظیم جماعت-لمجاہدین کو 1998 میں قائم کیا گیا تھا اور 2005 میں اسے کالعدم قرار دے دیا گیا تھا جب انہوں نے بم دھماکوں کا ایک سلسلہ کا ارتکاب کیا تھا، لیکن بعد میں ان سرگرمیوں کو ایک بار پھر شروع کر دیا۔ 2013 کے بعد سے، ملک میں مذہبی اقلیتوں، سیکولر اور لادین مصنفین اور ہم جنس پرستوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ستمبر 2015 سے اب تک 30 ایسے حملے ہو چکے ہیں اور عراق اور الشام میں اسلامی ریاست نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ گلشن ڈھاکہ کا ایک امیر علاقہ ہے، جہاں پر بہت سے غیر ملکی سفارتخانے موجود ہیں۔

                                     

2. حملے اور ریسکیو

حملہ مقامی وقت کے مطابق 21:20 بجے شروع ہوا۔ سات حملہ آور ریستوران میں بم اور بندوقوں سے مسلحہ ہو کر داخل ہوئے اور ایک حملہ آور کے پاس ایک تلوار بھی تھی۔ انہوں نے فائرنگ شروع کر دی اور لوگوں کو یرغمال بنانے سے پہلے بہت سے بم لگا دیے تھے۔ پولیس کے ساتھ ان کی جھڑپیں ہوئیں جس سے کئی اہلکار زخمی بھی ہوئے جن میں سے دو بعد میں مر گئے۔ پولیس نے ریستوران کا گردونواح گھیرے میں لے لیا اور ایک ریسکیو چھاپے کی منصوبہ بندی کی۔

یرغمال کرنے والوں نے تین مطالبات کیے:

  • یرغمال کرنے والوں باہر نکلنے کے لیے ایک محفوظ راستہ فراہم کیا جائے۔
  • یرغمال کرنے والوں نے مطالبہ کیا کہ انکا انتہا پسند تشریح کا اسلام قبول کیا جائے۔
  • جماعت لمجاہدین، کے رہنما خالد سیف اللہ کو رہا کر دیا جائے۔

ریستوران کے اندر سے مبینہ طور پر لی گئی تصاویر داعش کے حامی ٹویٹر اکاؤنٹس پر دیکھی گئیں تھیں ۔

بنگلہ دیش کی فوج، بحریہ، ایئر فورس، سرحدی گارڈز، پولیس، ریپڈ ایکشن بٹالین سے کمانڈو یونٹس اور مشترکہ افواج نے ریسکیو آپریشن 07:40 مقامی وقت پر شروع کیا۔ 13 یرغمالیوں کو بچا لیا گیا ہے۔ چھ حملہ آور ہلاک ہو گئے تھے کمانڈوز کے ساتھ ایک جھڑپ میں، جبکہ ساتویں کو زندہ پکڑ لیا گیا ۔

دی ڈیلی کالر کانتھو نے رپورٹ کیا کہ انتہا پسند گروہ انصار السلام نے ایک ٹویٹ کے ذریعے 10 گھنٹے پہلے ہی حملوں کا اعلان کر دیا تھا ۔

                                     

3. ہلاکتوں

بیس عام شہری، چھ مسلح افراد اور دو پولیس افسران کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی تھی، جبکہ دوسرے 50، زیادہ تر پولیس اہلکار تھے زخمی ہوئے تھے۔، دو پولیس اہلکاروں میں ایک اسسٹنٹ کمشنر تھا اور دوسرا نزدیکی بنانی پولیس سٹیشن کا آفیسر انچارج تھا۔ جاپانی اور اطالوی شہری متاثرین میں شامل تھے۔ بنگلہ دیشی فوج نے ابتدائی طور پر اعلان کیا کہ تمام 20 یرغمالیوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے اور تمام مقتولین غیر ملکی تھے۔ وہ لوگ جو قرآن کی کوئی آیت کی تلاوت کرسکتے تھے، انہیں چھوڑ دیا گیا تاکہ صرف غیر مسلموں کو ہی قتل کیا جائے ۔

مقتولین میں سات جاپانی شہری-پانچ مرد اور دو عورتیں -جو جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی سے منسلک تھے۔

                                     

4. ذمہ داری

عماق نیوز ایجنسی جو عراق اور الشام میں اسلامی ریاست سے وابستہ ہے، نے ابتدائی طور 25 افراد کو قتل اور 40 افراد کو زخمی کرنے کا دعوی کیا۔ عراق اور الشام میں اسلامی ریاستایک دوسری رپورٹ جاری کی طرف سے براہ راست داعش کے چند گھنٹے بعد، انہوں نے ا کہ اس گروپ نے ہلاک کر دیا "22 صلیبیوں اور ان کے ہمراہ تھے کی طرف سے تصاویر کے حملہ آوروں کے سامنے کھڑے داعش کے بینر۔

تاہم بنگلہ دیشی ہوم منسٹر ، اسد الزمان خان نے کہا ہے کہ قصورواروں کا تعلق جماعت لمجاہدین سے ہے اور وہ عراق اور الشام میں اسلامی ریاست سے تعلق نہیں رکھتے تھے اور نہیں کر رہے تھے وہ زیادہ تر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے ۔

                                     

5. رد عمل

  • loss."
  • civilians."
  • بنگلہ دیشی وزیر اعظمحسینہ واجد نے لوگوں کے قتل کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔
  • ۔
  • evil."