Back

ⓘ ابو ریحان بیرونی. ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی المعروف البیرونی ایک بہت بڑے محقق اور سائنس دان تھے۔ وہ خوارزم کے مضافات میں ایک قریہ، بیرون میں پیدا ہوئے اور ..



ابو ریحان بیرونی
                                     

ⓘ ابو ریحان بیرونی

ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی المعروف البیرونی ایک بہت بڑے محقق اور سائنس دان تھے۔ وہ خوارزم کے مضافات میں ایک قریہ، بیرون میں پیدا ہوئے اور اسی کی نسبت سے البیرونی کہلائے۔ البیرونی بو علی سینا کے ہم عصر تھے۔ خوارزم میں البیرونی کے سرپرستوں یعنی آلِ عراق کی حکومت ختم ہوئی تو اس نے جرجان کی جانب رخت سفر باندھا وہیں اپنی عظیم کتاب "آثار الباقیہ عن القرون الخالیہ" مکمل کی۔ حالات سازگار ہونے پر البیرونی دوبارہ وطن لوٹا اور وہیں دربار میں عظیم بو علی سینا سے ملاقات ہوئی۔

                                     

1. حالات زندگی

کاث شہر دریائے جیحون دریائے آمو کے مشرقی کنارے پر واقع تھا۔ اس کے اردگرد کئی مضافاتی بستییاں تھیں جن میں ایک بستی کا نام بیرون تھا۔ اس مضافاتی بستی میں ایک یتیم بچہ پرورش پا رہا تھا جس کا نام محمد بن احمد تھا جو دنیا میں البیرونی کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ بچہ شروع ہی سے قدرتی مناظر کا دلدادہ تھا۔ وہ دن بھر باغات میں پھرتا، خوب صورت پہاڑوں پر چڑھ جاتا، صحرا میں دوڑتا بھاگتا اور شام کے وقت گھر لوٹتا تو اس کے ہاتھ میں ریحان کی کونپلوں اور ٹہنیوں کا ایک گلدستہ ہوتا جسے وہ ایک پیالے میں سجا دیتا اور جب ہوا چلتی تو اس گلدستے کی خوشبو اس کے غریب خانی کو معطر کردیتی۔ اس کی ماں اس کو اسی لیے ابو ریحان کہ کر پکارتی تھی۔ البیرونی کا باپ ایک چھوٹا سا کاروبار چلاتا تھا لیکن اس کی ناگہانی موت کی وجہ سے البیرونی کی ماں اپنے لیے اور اپنے بیٹے کے لیے جنگل سے لکڑیاں جمع کرکے روزی کمانے پر مجبور ہو گئی۔ اس کام میں البرونی اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتا تھا۔

ایک روز البرونی کی نباتات کے ایک یونانی عالم سے ملاقات ہو گئی۔ البرونی نے اسے ایک باغ میں پھول توڑنے اور جنگل کے درختوں کے نیچے پودوں کو کاٹتے دیکھا تو اس یونانی علم کے پاس پہنچ کر احتجاج کرتے ہوئے کہنے لگا: جناب آپ ان بھولوں کو کیوں توڑ رہے ہیں اور پودوں کو کیوں کاٹ رہے ہیں؟ کیا آپ میری طرح ان کو کاٹے بغیر اور انہیں زندگی سے محروم کیے بغیر ان کی تصویریں نہیں بنا سکتے ہیں؟ یہ سن کر یونانی علم ہنس پڑا اور کہنے لگا: بیٹے میں ان بھولوں اور پودوں کا علم کی خاطر جمع کر رہا ہوں، ان پودوں اور بھولوں سے ہم بیماریوں کت علاج کے لیے دوائیں تیار کر رہیں۔ یہ سن کر البیرونی خوشی سے طلایا: تو آپ نباتات کے عالم ہیں؟ یونانی علم نے پیا سے کہا: ہاں میرے بیٹے، میرا خیال ہے تمہیں پھولوں اور پودوں سے بہت محبت ہے۔ البیرونی نے کہا میں تو تمام قدرتی مناظر سے محبت کرتا ہوں۔ ستاروں، درخت، پودے، پھول، پہاڑ، ٹیلے اور وادیاں سب ہی مجھے پسند ہیں۔ اس یونانی علم نے البیرونی کو روزانہ تعلیم دیتا رہااور نباتات کا علم سکھاتا رہا۔ اس وقت البیرونی کی عمر گیارہ سال تھی۔ تین سال گذر گئے اور ابو ریحان چودہ برس کا ہو گیا، اس عرصے میں اس نے یونانی اور سریانی زبانوں میں مہارت حاصل کرلی اور یونانی علم سے پودوں کی دنیا کے بارے میں بہت کچھ سیکھ لیا۔ طبعی علوم کع بارے میں اس کا شوق اور بڑھ گیا۔ یونانی علم اپنے وطن یونان لوٹنے سے پہلے البیرونی کو فلکیات و ریاضی کے عالم ابو نصر منصور علی کے خدمت میں جو خوارزمی خاندان کا شہزادہ تھا لے گیا۔ ابو نصر نے البیرونی کے لیے الگ گھر تعمیر کرایا اور وظیفہ بھی مقرر کیا۔ ابو نصر ہر روز فلکیات اور ریاضی کے علوم سکھاتا رہا۔ ابو نصر نے البیرونی کو مشہور ریاضی دان اور ماہر عبد الصمد کی شاگردی میں دے دیا۔

                                     

2. کارنامہ ہائے

البیرونی نے ریاضی، علم ہیئت، تاریخ اور جغرافیہ میں ایسی عمدہ کتابیں لکھیں جو اب تک پڑھی جاتی ہیں۔ ان میں ”تحقیق الہند" ہے جس میں البیرونی نے ہندو‎ؤں کے مذہبی عقائد، ان کی تاریخ اور برصغیر پاک و ہند کے جغرافیائی حالات بڑی تحقیق سے لکھے ہیں۔ اس کتاب سے ہندو‎ؤں کی تاریخ سے متعلق جو معلومات حاصل ہوتی ہیں ان میں بہت سی معلومات ایسی ہیں جو اور کہیں سے حاصل نہیں ہوسکتیں۔ اس کتاب کو لکھنے میں البیرونی نے بڑی محنت کی۔ ہندو برہمن اپنا علم کسی دوسرے کو نہیں سکھاتے تھے لیکن البیرونی نے کئی سال ہندوستان میں رہ کر سنسکرت زبان سیکھی اور ہندوئوں کے علوم میں ایسی مہارت پیدا کی کہ برہمن تعجب کرنے لگے۔ البیرونی کی ایک مشہور کتاب "قانون مسعودی" ہے جو اس نے محمود کے لڑکے سلطان مسعود کے نام پر لکھی۔ یہ علم فلکیات اور ریاضی کی بڑی اہم کتاب ہے۔ اس کی وجہ سے البیرونی کو ایک عظیم سائنس دان اور ریاضی دان سمجھا جاتا ہے۔ البیرونی نے پنجاب بھر کی سیر کی اور "کتاب الہند" تالیف کی، علم ہیئت و ریاضی میں البیرونی کو مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے ریاضی، علم ہیئت، طبیعیات، تاریخ، تمدن، مذاہب عالم، ارضیات، کیمیا اور جغرافیہ وغیرہ پر ڈیڑھ سو سے زائد کتابیں اور مقالہ جات لکھے۔ البیرونی کے کارناموں کے پیش نظر چاند کے ایک دہانے کا نام "البیرونی کریٹر" رکھا گیا ہے۔

                                     

3.1. تصنیفات و تالیفات کتاب الآثار الباقیہ عن القرون الخالیہ

یہ کتاب البیرونی نے جرجان کے حکمران شمس المعالی قابوس بن دشمکیر کے نام پر تحریر کی، اس کا خاص موضوع علم نجوم اور ریاضی تھا۔ لیکن اس میں بہت سے دیگر دلچسپ علمی، تاریخی اور مذہبی و فلسفیانہ باتیں بھی لکھی ہیں اور جگہ تنقیدی انداز بھی اختیار کیا ہے۔ اس طرح کتاب اس دور کے اہم تاریخی، مذہبی اور علمی مسائل کی ایک تنقیدی تاریخ بن گئی ہے۔خوش قسمتی سے اس عظیم کتاب کا اردو زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے۔اس کتاب کا اردو ترجمے کی سعادت ڈاکٹر سید علی رضا نقوی کو حاصل ہوئی ہے ۔

                                     

3.2. تصنیفات و تالیفات تحقیق الہند

ہندوں پر عربی زبان میں پہلی شہرہ آفاق کتاب، جس کا پورا نام تحقیق ما للھند من مقولۃ مقبولۃ فی العقل او مرذولۃ ہے۔ یہ کتاب ہندوستان کی تاریخ، رسوم و رواج اور مذہبی روایات کے ذیل میں صدیوں سے مورخین کا ماخذ رہی ہے اور آج بھی اسے وہی اہمیت حاصل ہے۔ کتاب الہند کا مواد حاصل کرنے کے لیے البیرونی نے سال ہا سال تک پنجاب میں مشہور ہندو مراکز کی سیاحت کی، سنسکرت جیسی مشکل زبان سیکھ کر قدیم سنسکرت ادب کا براہ راست خود مطالعہ کیا۔ پھر ہر قسم کی مذہبی، تہذیبی اور معاشرتی معلومات کو، جو اہل ہند کے بارے میں اسے حاصل ہوئيں اس کتاب میں قلم بند کر دیا۔ اس کتاب میں ہندو عقائد، رسم و رواج کا غیر جانبدرانہ اور تعصب سے پاک انداز میں انداز میں جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ پہلی کتاب ہے جس کے ذریعے عربی دان طبقہ تک ہندو مت کے عقائد و دیگر معلومات اپنے اصل مآخذ کے حوالے سے پہنچیں۔اس کتاب کا بھی اردو زبان میں ترجمہ تاریخ ہندوستان:ہندودھرم کی مفصل تاریخ کے نام سے ہوچکا ہے جسے ارشد بک سیلرز،میرپور آزاد کشمیر نے شائع کیا ہے۔لیکن کتاب پر مترجم کا نام نہیں لکھا گیا ہے ۔۔

  • کتاب مقالید علم الہیئہ وما یحدث فی بسیط الکرہ۔


                                     

3.3. تصنیفات و تالیفات قانون مسعودی

یہ البیرونی کی سب سے ضخیم تصنیف ہے جس کا نام اس نے سلطان محمود عزنوی کے نام پر رکھا ہے۔ پورا نام ہے۔ یہ 1030ء میں شائع ہوئی اور ان تمام کتابوں پر سبقت لے گئی جو ریاضی، نجوم، فلکیات اور سائنسی علوم کے موضوعات پر اس وقت میں لکھی جا چکی تھیں۔ اس کتاب کا علمی مقام بطلیموس کی کتاب المجسطی سے کسی طرح کم نہیں۔

  • کتاب رؤیہ الاہلہ۔
  • کتاب تہذیف فصول الفرغانی۔
  • کتاب استیعاب الوجوہ الممکنہ فی صفہ الاسطرلاب۔
  • مقالہ فی تصحیح الطول والعرض لمساکن المعمورہ من الارض۔
  • کتاب التطبیق الی حرکہ الشمس۔
  • کتاب الصیدلہ فی الطب۔
  • کتاب العمل بالاسطرلاب۔
  • کتاب استخراج الاوتار فی الدائرہ۔
  • کتاب کیفیہ رسوم الہند فی تعلم الحساب۔
  • کتاب التفہیم لاوائل صناعہ التنجیم۔
  • کتاب جلاء الاذہان فی زیج البتانی۔
  • کتاب تصور امر الفجر والشفق فی جہہ الشرق والغرب من الافق۔
  • کتاب ایضاح الادلہ علی کیفیہ سمت القبلہ۔
  • کتاب فی تحقیق منازل القمر۔
  • کتاب مفتاح علم الہیئہ۔
  • کتاب المسائل الہندسیہ۔
  • کتاب جدول التقویم۔
                                     

4. البیرونی کی دریافتیں

ان کی دریافتوں کی فہرست خاصی طویل ہے، انہوں نے نوعیتی وزن متعین کرنے کا طریقہ دریافت کیا، زاویہ کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا، نظری اور عملی طور پر مائع پر دباؤ اور ان کے توازن پر ریسرچ کی، انہوں نے بتایا کہ فواروں کا پانی نیچے سے اوپر کس طرح جاتا ہے، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایک دوسرے سے متصل مختلف الاشکال برتنوں میں پانی اپنی سطح کیونکر برقرار رکھتا ہے، انہوں نے محیطِ ارض نکالنے کا نظریہ وضع کیا اور متنبہ کیا کہ زمین اپنے محور کے گرد گھوم رہی ہے۔

Free and no ads
no need to download or install

Pino - logical board game which is based on tactics and strategy. In general this is a remix of chess, checkers and corners. The game develops imagination, concentration, teaches how to solve tasks, plan their own actions and of course to think logically. It does not matter how much pieces you have, the main thing is how they are placement!

online intellectual game →