Back

ⓘ حسن نظامی. خواجہ حسن نظامی سلسلہ چشتیہ کے صوفی اور اردو زبان کے ادیب تھے۔ آپ کے مضامین مخزن میں چھپتے رہے۔ آپ نظام الدین اولیاء کے عقیدت مند تھے اور پیری مریدی ..




                                     

ⓘ حسن نظامی

خواجہ حسن نظامی سلسلہ چشتیہ کے صوفی اور اردو زبان کے ادیب تھے۔ آپ کے مضامین مخزن میں چھپتے رہے۔ آپ نظام الدین اولیاء کے عقیدت مند تھے اور پیری مریدی کا سلسلہ بھی رکھتے تھے۔ حضرت نظام الدین اولیاء کی درگاہ میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سید امام، درگاہ سے وابستہ تھے۔

                                     

1. زندگی

آپ کے بزرگ شروع سے ہی تصوف کے راستے پر چلتے رہے چنانچہ خواجہ صاحب کی پرورش اور تربیت بھی اسی مذہبی اور صوفیانہ ماحول میں ہوئی۔ کبھی کسی درس گاہ سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی اپنے طور پر پڑھتے رہے اور عربی، فارسی اور اردو میں خاصی دسترس حاصل کر لی۔ ابتدائی زندگی تنگ دستی میں گزار دی۔ پھر کتابیں بیچنے کا کاروبار شروع کیا۔ کتابوں کی گھٹری اٹھا کرپرانی دہلی سے نئی دہلی پیدل جاتے۔ اسی طرح گزراوقات ہونے لگی۔

                                     

2. ادبی زندگی

فرصت کے اوقات لکھنے لکھانے کا کام کرتے۔ رفتہ ان کے مضامین رسالوں اور اخباروں میں چھپنے لگے۔ ان کی صحافتی زندگی کا آغاز روزنامہ رعیت سے ہوا۔ اخبار منادی میں ان کا روزنامچہ شائع ہوتا رہا۔ خود میرٹھ سے ایک اخبار توحید نکالا خواجہ صاحب اچھے اور منفرد انشاپرداز تھے سیاسی لیڈر بھی تھے اور بے باک مقرر اور خطیب بھی۔ پیری مریدی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ بے شمار لوگ حلقہ مریدی میں داخل ہوئے۔

                                     

3. تصانیف

خواجہ حسن نظامی کی تصانیف چالیس کے لگ بھگ ہیں جن میں سیپارہ دل، بیگمات کے آنسو، غدر دلی کے افسانے، مجموعہ مضامین حسن نظامی، طمانچہ بر رخسار یزید، سفر نامہ ہندوستان اور کرشن کتھا مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ خواجہ صاحب کی تصانیف کی تعداد چالیس ہے جبکہ ایک تحقیق کے مطابق یہ تعداد تین سو کے لگ بھگ ہے۔ خواجہ صاحب بہت زودگو انسان تھے ایک مقام پر آپ نے خود کہا ہے کہ مہینے میں ایک کتاب تو ہوجاتی ہے۔

                                     
  • حسن نظامی فارسی زبان کے شاعر اور مورخ تھے جو بارہویں اور تیرہویں صدی میں گزرے وہ نیشا پور سے دہلی ہندوستان ہجرت کر کے آئے تھے جہاں انہوں نے تاج المآثر
  • دماغی و قلمی نمونہ جنگ صفین خواجہ حسن نظامی کی کتاب ہے جس میں انہوں نے محمد علی جوہر سے اپنی قلمی جنگ کا مکمل تذکرہ درج کیا ہے اور اس سلسلے میں تحریر
  • اچھوتے مضامین استعارے ان کے کلام کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں مثنوی روزمرہ میں لکھی جاتی ہے یہ خصوصیت فردوسی کے بعد نظامی میں نظر آتی ہے انہوں نے بعض ایسے
  • قلمی و مباحث کا ہنگامہ ہوا تھا جس میں خواجہ حسن نظامی بھی پیش پیش تھے جس پر علامہ اقبال نے خواجہ حسن نظامی کو مشورہ دیا کہ وہ اس مسئلے کی صحیح تعبیر جاننے
  • یو پی میں ملازم تھے والدہ کا نام صغری بیگم تھا جو مولوی حسن رضا خان کی بیٹی تھی ساغر نظامی نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن علی گڑھ سے حاصل کی آپ نے عربی
  • ملا واحدی کے بزرگوں نے تو ان کا نام سید محمد ارتضی رکھا تھا مگر خواجہ حسن نظامی صاحب نے انہیں ملا واحدی کا خطاب دیا اور اس خطاب کو اتنی شہرت حاصل ہوئی
  • حمید نظامی 3اکتوبر 1915 تافروری 1962 ایک صحافی تھے جنہوں نےروزنامہ نوائے وقت اخبار کی بنیاد رکھی روزنامہ نوائے وقت پاکستان کا بڑا مشہور اخبار ہے جس
  • صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا امداد نظامی کی ایک بیٹی ارجمند نظامی لاہور دانش نظامی لاہور ثقافت نظامی کراچی اور تحسین نظامی پشاور میں
  • محمد حسن عسکری پیدائش: 5 نومبر 1919ء - وفات: 18 جنوری 1978ء پاکستان کے نامور اردو زبان و ادب کے نامور نقاد مترجم افسانہ نگار اور انگریزی ادب کے استاد
  • 2017ء ملتان حافظ محمد ا قبال المعروف ا بن کلیم احسن نظامی ملتان کے معروف خطاط احسن التحریر محمد حسن خان کلیم رقم خطاط ایشیا کے گھر پیدا ہوئے حفظ