Back

ⓘ جموں وکشمیر حق معلومات قانون 2009ء 20 مارچ 2009ء سے نافذ العمل ہوا ہے۔ یہ سابقہ جموں وکشمیر حق معلومات قانون 2004ء اور جموں وکشمیر حق معلومات قانون 2008ء جیسے ق ..




جموں وکشمیر حق معلومات قانون 2009ء
                                     

ⓘ جموں وکشمیر حق معلومات قانون 2009ء

جموں وکشمیر حق معلومات قانون 2009ء 20 مارچ 2009ء سے نافذ العمل ہوا ہے۔ یہ سابقہ جموں وکشمیر حق معلومات قانون 2004ء اور جموں وکشمیر حق معلومات قانون 2008ء جیسے قوانین کو بدل کر ان کی جگہ بنایا گیا ہے۔ یہ قانون بڑی حد تک مرکزی حق معلومات قانون 2005ء پر مبنی ہے۔ سبھی معلومات کا حق فراہم کرنے والے قوانین کی طرح یہ جموں و کشمیر ریاست کے شہریوں کو ایک قانونی آلہ پہنچاتا ہے جس سے وہ سرکاری ریکارڈز دیکھ سکتے ہیں۔

                                     

1.1. تاریخ ریاستی سطح کے حق معلومات قوانین

ریاستی سطح پر آر ٹی آئی کامیابی سے تمل ناڈو 1997ء، گوا 1997ء، راجستھان 2000ء، مہاراشٹر 2002ء، آسام 2002ء، مدھیہ پردیش 2004ء، ہریانہ 2005ء اور آندھرا پردیش میں بنایا جا چکا ہے۔ دستور ہند کے تحت دفعہ 370 کی وجہ سے جموں وکشمیر کو خصوصی موقف حاصل ہے۔ جموں وکشمیر کا اپنا ایک الگ دستور ہے۔ اس کے تحت کسی مرکزی قانون سازی کے جواب میں ریاست اسی کی عمل آوری ریاست تک وسیع کرسکتی ہے یا کوئی الگ قانون سازی کرسکتی ہے یا اسے بالکل ہی نظرانداز کرسکتی ہے۔

                                     

1.2. تاریخ جموں وکشمیر حق معلومات قانون 2008ء

کئی سالوں سے شہریوں کے گروپوں کی جانب سے حکومت پر اثرانداز ہونے کی کوشش کے باوجود جموں و کشمیر کی حکومت مرکزی حق معلومات قانون 2005ء کو ریاست میں نافذ نہیں کیا۔ اس کے تتیجے میں جموں و کشمیر کے شہری ایک پرانے اور کم اثرانگیز جموں وکسمیر حق معلومات قانون 2004ء کا سہارا لیتے رہے۔۔

ستمبر 2007ء کو حکومت نے جموں وکشمیر حق معلومات ترمیم قانون کو منظور کروایا جسے بعد میں جموں وکشمیر گزٹ میں اعلامیہ کی شکل میں جنوری 2008ء میں جاری کیا۔ 2008ء کا ترمیمی قانون اصل قانون میں کئی تبدیلیاں لاکر اسے مرکزی قانون کے مساوی بناتا ہے، تاہم کئی شہریوں کے گروپ اسے اس کے کلیدی مشمولات سے دستبرداری قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ 2008ء کا ترمیمی قانون تکنیکی طور پر نافذ تھا، مگر اس پر کبھی بھی حقیقی معنوں میں عمل آوری نہیں ہوئی۔ ترمیمی قانون کے اصول کبھی جاری نہیں ہوئے اور ضروری جموں و کشمیر ریاستی معلوماتی کمیشن جس کی اس قانون میں وکالت کی گئی تھی، کبھی قائم نہیں ہوا۔

                                     

1.3. تاریخ موجودہ قانون

دسمبر 2008ء میں عمر عبداللہ کی زیر قیاست نیشنل کانفرنس پارٹی نے اعلان کیا کہ ایک نیا حق معلومات قانون ان "انتخابی منشور" کے مقاصد کا حصہ ہے۔ جب نیشنل کانفرنس منتخب ہوئی اور عمر عبد اللہ وزیر اعلٰی بنے، ایک بل کا مسودہ اسمبلی میں 7 مارچ 2009ء کو رکھا گیا اور اسے اسمبلی اور ریاستی کونسل کی جانب سے 12 مارچ 2009ء کو منظور ہوا۔ یہ قانون 20 مارچ 2009ء کو گزٹ کا حصہ بنا نافذ العمل ہوا۔ قانون کے اصول 6 جون 2009ء کو جاری ہوئے۔ حکومت نے اسی کے ساتھ عوامی معلومات افسروں اور نائب عوامی معلومات افسروں کے تقرر کا عمل شروع کیا۔

                                     
  • جموں و کشمیر ہریانہ 2005ء اور آندھرا پردیش میں بنایا جا چکا ہے یہ قانون پورے بھارت پر محیط ہے سوائے جموں و کشمیر کے جہاں جموں وکشمیر حق معلومات قانون