Back

ⓘ بہشتی مقبرہ کی اعتقادی بنیاد جماعت احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد کی کتاب الوصیت پر ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنا ایک خواب بیان کیا ہے جس میں انہوں نے دیکھا کہ ا ..




                                     

ⓘ بہشتی مقبرہ

بہشتی مقبرہ کی اعتقادی بنیاد جماعت احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد کی کتاب الوصیت پر ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنا ایک خواب بیان کیا ہے جس میں انہوں نے دیکھا کہ ان اور ان کے مخلص ساتھیوں کی قبریں ایک قطعہ زمین پر اکٹھی ہیں۔ اس خواب کے بعد انہوں نے اپنی جماعت کے مخلص لوگوں کے لیے ایک نظام کا آغاز کیا اور اس کے لیے کچھ شرائط عائد کیں۔ چنانچہ صرف وہ احمدی افراد جو اس نظام میں شامل ہوں اور ان شرائط پر پورے اتریں ان کے لیے ایک الگ قبرستان بنایا گیا جو بہشتی مقبرہ کہلاتا ہے۔

                                     

1. نظام وصیت

نظام وصیت میں شامل ہونے والوں کے لیے مرزا غلام احمد نے چار بنیادی شرائط مقرر کیں۔

  • "تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں داخل ہونے والا ہو اور محرمات سے پرہیز کرتا اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو۔ سچا اور صاف احمدی ہو"۔
  • "ہر ایک صالح جو اُس کی کوئی جائداد بھی نہیں اور کوئی مالی خدمت نہیں کر سکتا اگر یہ ثابت ہو کہ وہ دین کے لیے اپنی زندگی وقف رکھتا تھا اور صالح تھا تو وہ اس قبرستان میں دفن ہو سکتا ہے"۔
  • "تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں وہی مدفون ہو گا جو وصیت کرے جو اس کی موت کے بعد دسواں حصہ اس کے تمام ترکہ کا حسب ہدایت اس سلسلہ کے اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہو گا اور ہر ایک صادق کامل الایمان کو اختیار ہو گا کہ اپنی وصیت میں اس سے بھی زیادہ لکھ دے لیکن اس سے کم نہیں ہو گا"۔
  • پہلی شرط یہ ہے کہ موصی قبرستان کے مصارف کے لیے کچھ رقم اپنی حیثیت کے مطابق ادا کرے۔
                                     

2. قادیان بہشتی مقبرہ

اس نظام کے تحت مرزا غلام احمد نے قادیان میں، جو جماعت احمدیہ کا مرکز اور مرزا غلام احمد کا آبائی گاؤں تھا، میں اپنی آراضی پر اس بہشتی مقبرہ کا آغاز کیا۔

                                     

3. مقبرہ موصیان

قادیان اور ربوہ کے علاوہ بھی جہاں جماعت احمدیہ قائم ہے وہاں نظام وصیت کی مناسبت سے مخصوص مقبروں کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ البتہ ان مقبروں کو مقبرہ موصیان کہا جاتا ہے۔ بہشتی مقبرہ کی اصطلاح محض قادیان اور ربوہ کے مقابر ہی کے لیے مخصوص ہے۔

                                     

4. اہم مدفن

قادیان

قادیان میں بہشتی مقبرہ میں مرزا غلام احمد اور ان کے پہلے خلیفہ حکیم نورالدین مدفون ہیں۔ اسی طرح مرزا غلام احمد کے بہت سے نزدیکی پیروکار، جن کو جماعت احمدیہ میں "صحابہ مسیح موعود" کہا جاتا ہے، بھی مدفون ہیں۔

ربوہ

ربوہ کے بہشتی مقبرہ میں جماعت احمدیہ کے دوسرے اور تیسرے احمدی خلفاء، مرزا غلام احمد کی زوجہ نصرت جہاں بیگم، وزیر خارجہ پاکستان محمد ظفر اللہ خان، پہلے پاکستانی نوبل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام نیز مرزا غلام احمد کے متعدد قریبی ساتھی اور ان کی اولاد کی قبریں شامل ہیں۔