Back

ⓘ علم الخلاء یا خلائی علم ، جسے خلائی سائنس بھی کہا جاسکتا ہے، علم یعنی سائنس کا وہ شعبہ ہے جس میں بیرونی فضاء کی کیفیت اور اس کے مفید استعمال سے متعلق تحقیق کی ج ..




علم الخلا
                                     

ⓘ علم الخلا

علم الخلاء یا خلائی علم ، جسے خلائی سائنس بھی کہا جاسکتا ہے، علم یعنی سائنس کا وہ شعبہ ہے جس میں بیرونی فضاء کی کیفیت اور اس کے مفید استعمال سے متعلق تحقیق کی جاتی ہے۔

یہ ایک وسیع شعبہءعلم ہے کہ جو دیگر کئی ذیلی شعبہ جات کا احاطہ کرتا ہے

  • دسر خلائی جہاز خلائی سفینہ چھوڑنا Spacecraft propulsion
  • حیاتیات خلا حیاتیات الفلک Astrobiology / Exobiology
  • پلازما طبیعیات Plasma physics
  • فلکی نقل و حمل Space transport
  • فلکی طبیعیات Astrophysics
  • سفر بین النجم Interstellar travel
  • کم ثقلی حالت بے وزنی Microgravity environment
  • علم السیارہ علم اجرام فلکی بطور خاص سیارے Planetary science
  • علم الہیئت فلکیات Astronomy
  • ارسالی طرزیات پرتابہ Rocket launch technology
  • صاروخ پرتابہ Rocket
  • سفر بین السیارہ Interplanetary travel
  • فلکی حرکیات Astrodynamics
  • انسی خلائی مہمّات Manned space missions
  • خلائی سیاحت خلانوردی Space exploration
  • بغیر انسان کے خلائی مہمّات Unmanned space missions
  • خلائی آبادکاری Space colonization
                                     
  • اس صفحے پر قرآن اور خلائے سائنس کے بارے میں مضمون لکھا جائے گا اس نام کا ایک مضمون سا نس میگزین میں لکھا تھا جو کھ سید قاسم محمود کی زیر ادارت چھپتا
  • حیاتیات خلا جس کو انگریزی میں Astrobiology کہا جاتا ہے دراصل علم الخلا astronomy حیاتیات اور ارضیات geology کی معلومات کے مدغم استفادہ سے نمودار
  • فقہ سے مراد ایسا علم جس میں ا ن شرعی احکام سے بحث ہوتی ہو جن کا تعلق عمل سے ہے اور جن کو تفصیلی دلائل سے حاصل کیا جاتا ہے فقہ شریعت اسلامی کی ایک اہم
  • کسی چیز کو جاننا سمجھنا چونکہ تمام علوم میں علم دین کو فضیلت حاصل ہے اس لیے فقہ کا لفظ اصطلاح میں علم دین کے لیے مخصوص کر لیا گیا فقیہ وہ نہیں جسے
  • للفقيه, لب الا صول ملا بد للفقيه, التعرفات اللفقهيه, أصول الكر خى, أصول المسا ىل الخلا فية, القواعد الفقهية, آدب المفتى, حقة البر كتيه بشر ح آدب المفتى, أو جز السير
  • گزارنے اور کھانے پینے اور جماع میں شرکت سے روک دیتا ہے اور اسی طرح بیت الخلا میں داخل ہونے سے پہلے اور لباس اتارنے سے قبل جن کو انسان کی شرمگاہ اور اسے
  • نہایت کمزور ہوچکی تھی ہم عرب لوگ تھے ہمارے گھروں میں اہل عجم کی طرح بیت الخلا نہ تھا قضائے حاجت کے لیے مدینہ کی کھلی فضاء میں چلے جاتے تھے یعنی کھلے
  • نہانے کے لیے ساحل بیٹھنے کے لیے سایہ دار مقامات تیرتی سمندری گودی بیت الخلا ریستوراں پارک رقصاں چشمے کھیلنے کے میدان جگہ جگہ چارجنگ کی شہولت اور
  • نامناسب الفاظ بولتا رہا کچھ دیر کے بعد اس شخص کو بیت الخلا میں جانے کی ضرورت پیش آئی جب وہ بیت الخلا میں پہنچا تو شہد کی مکھیوں اور بھڑوں کے جھنڈ نے اس
  • موجود ہونے کا امکان بہرحال کم از کم تفرقاتی نقطۂ نظر سے موجود ہے کیونکہ علم الحدیث کی مکمل آگہی سے بے بہرہ عام انسانوں کی حد تک تو بات سمجھ میں آسکتی