Back

ⓘ بقا ایک کیفیت ہے یا ایک حال ہے، جو اپنی حقیقت کو ذات خداوندی کے ساتھ وابستہ کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ جبکہ بقا فناء کے بعد ہوتی ہے۔ جیسے فنا عن المعاصی۔ اور بقا الط ..




                                               

موسمیاتی تبدیلی اور صنف

آب و ہوا میں تبدیلی اور صنف مردوں اور عورتوں پر آب و ہوا کی تبدیلی کے متضاد اثرات کی ترجمانی کرنے کا ایک طریقہ ہے ، صنف کے کردار اور معاشرتی تعمیر کی بنیاد پر۔ آب و ہوا میں تبدیلی صنفی عدم مساوات میں اضافہ کرتی ہے ، خواتین کی معاشی طور پر آزادانہ طور پر آزاد ہونے کی صلاحیت کو کم کرتی ہے ، اور معاشرتی اور سیاسی خواتین کے حقوق پر ، خاص طور پر ایسی معیشتوں پر جو زراعت پر زیادہ تر مبنی ہے ، پر مجموعی طور پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ بہت سارے معاملات میں ، صنفی عدم مساوات کا مطلب یہ ہے کہ خواتین آب و ہوا کی تبدیلی کے منفی اثرات کا زیادہ شکار ہیں. اس کی وجہ صنفی کرداروں کی وجہ سے ہے ، خاص طور پر ترقی پ ...

بقا
                                     

ⓘ بقا

بقا ایک کیفیت ہے یا ایک حال ہے، جو اپنی حقیقت کو ذات خداوندی کے ساتھ وابستہ کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ جبکہ بقا فناء کے بعد ہوتی ہے۔ جیسے فنا عن المعاصی۔ اور بقا الطاعتہ گناہوں سے فانی ہوجانا اور اطاعت پر باقی رہنا یا جہالت سے فنا حاصل کرنا اور الٰہی معرفت سے بقا حاصل کرنا متکلمین اسلام کے مطابق فنا اس کارروائی کا نام ہے جس میں شے کے اوصاف معدوم ہو جاتے ہیں اور بقا انہی اوصاف میں دوام حاصل کرنا ہے۔ صوفیہ کا بیان ہے کہ ممکنات کا وجود اور لوازم وجود اور تمام کمالات ممکن کے ذاتی نہیں بلکہ مرتبۂ وجوب سے مستفاد اور باری تعالیٰ کی طرف سے ایک مستعار ودیعت ہے ورنہ بذات خود ہر ممکن ان کمالات سے خالی ہے اور اس آیت کا اقتضاء ہے کہ امانت کو امانت والے کے سپرد کردینا اور اپنی ذات کو اس کا مالک نہ قرار دینا واجب ہے اگر بادشاہ کسی بھنگی کو خلعت فاخرہ اور لباس امیرانہ پہنا دے تو بھنگی کی یہی دانشمندی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ویسا ہی تصور کرے جیسے پہلے تھا اور خلعت کو بادشاہ کی عاریت سمجھے۔ صوفی پر بھی جب اس تصوری حالت کا غلبہ ہوتا ہے تو وہ اپنے کو اپنی ذات کے اعتبار سے معدوم اور فاقد الوجود سمجھتا ہے اور تمام کمالات سے خالی جانتا ہے بلکہ اپنے کو تمام مفاسد اور شرور کا مبداء خیال کرتا ہے یہی مرتبۂ فنا ہے اس سے آگے ایسی کھوئی حالت بھی ہوجاتی ہے کہ اپنی ذاتی فنا اور کمالات سے خالی ہونے کا بھی اس کو خیال نہیں رہتا‘ یہ مرتبہ فناء الفناء کا ہوتا ہے لیکن فنا ذاتی کے تصور کے ساتھ کبھی یہ خیال بھی شہودی مرتبہ تک پہنچ جاتا ہے کہ میرا وجود ہے میں موجود ہوں مگر میری یہ ہستی اور ہستی کے صفات میرے نہیں اللہ تعالیٰ نے بطور عاریت مجھے عطا فرمائے ہیں۔ ذات خداوندی اور صفات الٰہیہ کی وجہ سے میری ہستی اور ہستی کی صفات کی بقاء ہے یہ مرتبہ بقاء کا ہے یہی مطلب ہے اس فرمان خداوندی کا جس کو حدیث قدسی میں بیان کیا گیا ہے کہ میں مؤمن کے کان ہوجاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے۔ اسی مرتبۂ فنا و بقاء کا نام صوفی کی نظر میں ادائے امانت ہے اس مرتبہ پر پہنچنے کے بعد کوئی صوفی تصور بھی نہیں کر سکتا ہے کہ خود وہ اپنے نفس کا تزکیہ کرتا ہے کیونکہ اس کو اپنا نفس معدوم الوجود اور تمام کمالات سے خالی نظر آتا ہے ہاں اللہ نے جو فضائل و کمالات عطا فرمائے ہیں ان کو تذکرۂ انعام کے طور پر بیان کرنا اس کے لیے جائز ہوتا ہے کیونکہ کوئی فضیلت اس کی ذاتی نہیں ہوتی ہر کمال اور فضیلت کا رجوع اللہ کی طرف ہوتا ہے پس کسی فضیلت کے ذکر سے مراد ہوتا ہے اللہ کی عنایت کا اظہار اور کمال خداوندی کا بیان۔

                                     
  • یوھمور بقا لبنان کا ایک رہائشی علاقہ جو محافظہ بقاع میں واقع ہے لبنان فہرست لبنان کے شہر صفحہ یوھمور بقا في GeoNames ID GeoNames ID. اخذ شدہ بتاریخ
  • آب بقا دو الفاظ کا مرکب آب یعنی پانی اور بقا یعنی دائمی یعنی ایسا پانی جس کے پینے سے ابدی زندگی حاصل ھو یہ ایک الف لیلوی لفظ ہے جس کا حقیقت سے کوئی
  • اردو میں شاہ حاتم و خواجہ میردرد کے شاگرد تھے فارسی میں حزیں اور اردو میں بقا تخلص کرتے تھے قصیدہ گوئی میں مرزا محمد رفیع سودا کے حریف تھے میر تقی میر
  • تمغہء بقا پاکستان کے 28 مئی 1998 میں چاغی بلوچستان میں کیے گئے پہلے ایٹمی دھماکے کی یاد میں دیا جانے والا ایک تمغا ہے یہ تمغا ان لوگوں کو دیا جاتا ہے
  • بقا فلم Survival film ایک صنف فلم ہے جس میں ایک یا زیادہ افراد افراد اپنی بقا کی کوشش کرتے ہیں گریویٹی لون سروائیور ریوینینٹ Sobchack Thomas 1988
  • پیر سید محمد بقا شاہ راشدی خاندان کے مورث پیر سید محمد راشد شاہ کے والد ہیں انہیں حضرت میاں صاحب بھی کہا جاتا ہے آپ کی ولادت 1135ھ میں ہوئی آپ کے مورث
  • مولاناحاجی بقا محمد تحفہ سلطانیہ کے مصنف ہیں حاجی بقا محمدقریشی باشمی موضع نکہ کڑتی ضلع کو ٹلی آزاد کشمیر کے رہنے والے تھے آپ عالم دین اور صوفی باصفا
  • بقا بلوچ 3 فروری 1978 کو سوئی ضلع ڈیرہ بگٹی میں پیدا ہوئے آپ پاکستان کے صوبے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور بلوچی کے ممتاز شاعر ادیب محقق اور
  • نہ ہو گا اور فقط اس وقت باقی ہے اور پابند مکان و زمان ہے دوم: دوسرے وہ بقا کہ پہلے کبھی نہ تھی اور بعد میں موجود ہو گئی اور پھر کبھی فانی نہ ہوگی جیسے
  • ہے جس میں جانداروں اور بے جان چیزوں موسم آب و ہوا اور قدرتی وسائل کا آپس میں تعلق ہوتا ہے اور اسی سے انسانی بقا اور اس کے معیشت کا دارومدار ہوتا ہے
  • بنگلہ اکیڈمی ڈھاکہ میں قائم ایک خود مختار ادارہ ہے جسکی فنڈنگ حکومت کی جانب سے کی جاتی ہے اور اسکا کام بنگالی زبان کی بقا و ترویج ہے