Back

ⓘ موسیقی ..




                                               

آوارہ ہوں

گانے کے بول آوارہ ہوں آوارہ ہوں یا گردش میں ہوں آسمان کا تارہ ہوں آوارہ ہوں آوارہ ہوں یا گردش میں ہوں آسمان کا تارہ ہوں آوارہ ہوں گھر بار نہیں سنسار نہیں مجھ سے کسی کو پیار نہیں مجھ سے کسی کو پیار نہیں اس پار کسی سے ملنے کا اقرار نہیں مجھ سے کسی کو پیار نہیں مجھ سے کسی کو پیار نہیں سنسان نگر انجان ڈگر کا پیارا ہوں آوارہ ہوں آوارہ ہوں یا گردش میں ہوں آسمان کا تارہ ہوں آوارہ ہوں آباد نہیں برباد سہی گاتا ہوں خوشی کے گیت مگر گاتا ہوں خوشی کے گیت مگر زخموں سے بھرا سینہ ہے میرا ہنستی ہے مگر یہ مست نظر دنیا دنیا میں تیرے تیر کا یا تقدیر کا مارا ہوں آوارہ ہوں آوارہ ہوں یا گردش میں ہوں آسمان کا تار ...

                                               

بلال فلپس

ابو امینہ بلال فلپس مشہور اسلامی داعی ہیں۔ جو جمیکن نژاد مسیحی خاندان کے فرد تھے اور بعد ازاں اسلام قبول کر لیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے نہ صرف موسیقی کو خیر باد کہا بلکہ اسلامی فقہ میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی اور خود کو تبلیغ اسلام کے لیے وقف کر دیا۔

                                               

خیال

خیال کی تلاش یہاں لاتی ہے۔ خیال کے طبی اور نفسیاتی مفہوم کے لیے دیکھیے خیال دماغ قدیم راگوں کی ایک قسم۔ استادان فن دھرپد کے بعد خیال کو اہمیت دیتے ہیں۔ موسیقی نے جب ترقی کی تو دھوروا اور پد کے ملاپ سے دھرپد پیدا ہوا۔ اس کے چار حصے ہیں: استائی ،انترا، سنچاری اور ابھوگ۔ اس میں خدا کی حمد کے کچھ بول ہوتے ہیں۔ گانے والوں میں تان سین۔ بلاس خان، درنگ خاں، لعل خاں وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ پندرھویں صدی میں جونپور کے شاہان شرقیہ میں سے سلطان حسین شرقی نے خیال ایجاد کیا۔ پہلے خیال کے دھرپد کی طرح چار حصے ہی تھے۔ لیکن بعد میں صرف استھائی اور انترا ہی رہ گئے۔ محمد شاہ کے زمانے میں شاہ سدا رنگ او ...

                                               

دادرا

دادرا موسیقی کی ایک صنف ہے جو شروع میں دادرا تال میں گایا جاتا تھا اس لیے اس کا نام بھی دادرا پڑ گیا، لیکن آج کل تال کی قید نہیں ہے۔ عموما کہروے اور اورے میں گاتے ہیں۔

                                               

سردار علی ٹکر

سردار علی ٹکر پشتو زبان کے گلوکار ہیں اور غنی خان کو ایک نئی جہت میں پیش کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ سردار علی ٹکر پیشے کے لحاظ سے مہندس ہیں مگر وجہ شہرت پشتو گائیکی ہے۔ آپ نے پشاور سے اپنی تعلیم مکمل کی اور آپ کو موسیقی میں گراں قدر خدمات کے صلے میں صدر پاکستان کی جانب سے ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ سردار علی ٹکر 1956ء میں ٹکر گاؤں جو تخت بائی ضلع مردان میں واقع ہے پیدا ہوئے۔ دسویں کا امتحان مقامی سرکاری اسکول سے پاس کیا اور مردان بورڈ میں اول پوزیشن حاصل کی۔ بارہویں کا امتحان امتیازی نمبروں سے گورنمنٹ کالج مردان سے پاس کیا اور پشاور میں انجنئیرنگ کے شعبہ میں داخل ہوئے۔ تعلیم مکمل ...

                                               

شاستری سنگیت

بھارتی موسیقی سانچہ:भारतीय संगीत ہندوستانی شاستری موسیقی}} یا مارگ ہندوستانی موسیقی کا لازمی جزو ہے۔ شاستری موسیقی کو کلاسیکی موسیقی بھی کہا جاتا ہے۔ کلاسیکی گانا صوتی اکثریت کی حامل ہوتی ہے ، الفاظ غالب نہیں۔ اس میں اہمیت آواز کی ہے اس کے اتار چڑھاو کی ، الفاظ اور معانی کی نہیں۔ اگرچہ یہ صرف کلاسیکی موسیقی بجانے والے مشق کے معمولی کان سے ہی سمجھا جاسکتا ہے ، لیکن غیر مانوس کان بھی الفاظ کے معنی کے ذریعہ دیسی گانوں یا لوک گانوں سے لطف اٹھا سکتا ہے۔ بہت سارے لوگ فطری طور پر اس سے بور ہو جاتے ہیں ، لیکن اس کی وجہ اس موسیقار کی کمزوری نہیں ہے ، بلکہ لوگوں میں معلومات کا فقدان ہے۔

                                     

ⓘ موسیقی

  • موسیقی ٹیکنالوجی music technology سے مراد موسیقی فنون سے تعلق رکھنے والی ٹیکنالوجی کی تمام اقسام ہیں
  • جدید اور رائج موسیقی کو اسلام میں عام طور پر حرام سمجھا جاتا ہے موسیقی کی کچھ قسمیں ایسی ہی جنہیں اسلامی سمجھا جاتا ہے جیسے قوالی اور دف وغیرہ جدید
  • کلاسیکی موسیقی وہ موسیقی ہے جو صدیوں سے بر صغیر میں مروج ہے اور جس میں گائکی کا وہ استعمال ہوتا ہے جہاں چار متوں دس ٹھاٹوں اور دھروپد سے لے کر خیال ٹپہ
  • مغربی موسیقی نویں صدی عیسوی سے مروج یورپ کی روایتی موسیقی ہے 1550ء سے 1990ء تک کے زمانے میں اس پر نمایاں تبدیلیاں رونما ہو گئیں
  • نظریہ موسیقی تعمیرشدہ موسیقی کی ساخت کا مطالعہ ہے نظریہ موسیقی موسیقی کے بنیادی معاون پیما یا موسیقی کے عناصر - - - آہنگ ہارمونی ہارمونی دالہ تان
  • کلاسیکی موسیقی نیم کلاسیکی موسیقی لوک موسیقی دادرا ٹھمری دھرپد ترانہ تروٹ ٹپہ ہوری
  • ہاؤس الیکٹرانک ڈانس موسیقی کا ایک انداز ہے جو شکاگو الینوئے ریاستہائے متحدہ امریکا میں 1980ء کی دہائی کے اوائل میں ایجاد ہوا یہ انداز 1980ء دہائی کے
  • صوبہ سندھ کی موسیقی سندھی زبان میں گائی جاتی ہے اور عام طور پر یا تو بیت یا وای کے انداز میں پیش کی جاتی ہے وای موسیقی سازی تار کے آلے کے ذریعہ
  • کھوار موسیقی آلات موسیقی اور فنکار شیر ولی خان اسیر کی اردو زبان میں کھوار موسیقی کے بارے میں پہلی کتاب ہے شیر ولی خان اسیر چترال میں بولی جانے والی
  • لوک موسیقی جسے عوامی موسیقی بھی کہتے ہیں کلاسیکی موسیقی اور نیم کلاسیکی موسیقی سے زیادہ عام فہم اور عوام میں زیادہ مقبول ہے اس موسیقی میں ہلکے پھلکے
  • پیدا کرنے کے آلات کو برقیاتی موسیقی آلات یا برقیاتی ساز کہلاتے ہیں اس طرح کے ساز برقی آڈیو اشارے کے ذریعے آواز پیدا کرتے ہیں ایک برقیاتی موسیقی آلہ
برقیاتی موسیقی آلات
                                               

برقیاتی موسیقی آلات

برقیات کا استعمال کرتے ہوئے آواز پیدا کرنے کے آلات کو برقیاتی موسیقی آلات یا برقیاتی ساز کہلاتے ہیں۔ اس طرح کے ساز برقی آڈیو اشارے کے ذریعے آواز پیدا کرتے ہیں ۔

                                               

بلوز موسیقی

بلوز موسیقی مالی، سینیگال، گیمبیا، گھانا وغیرہ ممالک سے امریکہ میں بطورِ غلام لائے گئے سیاہ فام لوگوں کی ایک قسم کی موسیقی کا نام ہے۔ یہ 19 ویں صدی کے اواخر میں دور دراز جنوب میں افریقی امریکی برادری کے اندر مزدور گیت، کاشتکارانہ گیت، نعرے اور بھجن سے پیدا شدہ طرزِ موسیقی ہے ۔

ترم
                                               

ترم

تُرم ، بوق ، بگل ، سینگا یا قرنا ، آلہ موسیقی ہے، جو کلاسیکی اور جاز موسیقی میں بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ تُرم کو بجانے کے لیے اس کے دہانے میں پھونکنے سے بھنبھناہٹ کی آواز پیدا ہوتی ہے، جس کو مخصوص ترتیب شدہ موسیقی کے طرز پر استعمال کیا جاتا ہے۔ تُرم پر موسیقی برآمد کرنے کو تین کلی ہوتے ہیں جن کو صمصام کہا جاتا ہے اور ان پر دبا کر مختلف طرز کی آوازیں پیدا کی جا سکتی ہیں۔

                                               

جاز

Jazz موسیقی کی ایک رقصی طرز۔ کل بھی مقبول تھی اور آج بھی مقبول ہے۔ باقاعدہ راگنی کے کچھ پردوں کو محذوف یا منقطع کرکے یہ طرز نکالی جاتی ہے۔ جاز کے بینڈ میں مختلف قسم کے باجے استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن تیز آواز کے باجے اور ایسے باجے جن پر چوٹ پڑتی ہے۔ زیادہ مرغوب ہوتے ہیں۔ بگل، ڈھول، جس پر کپڑا باندھ کر آواز کی تیزی کم کی جاتی ہے وائلن، بینجو، پیانو، بینڈ میں شامل ہوتے ہیں۔ کچھ باجے ناچتے وقت تال دینے کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ امریکا کے حبشیوں کے گانوں سے جاز کی طرز ایجاد ہوئی۔٫

لوک موسیقی
                                               

لوک موسیقی

لوک موسیقی جسے عوامی موسیقی بھی کہتے ہیں، کلاسیکی موسیقی اور نیم کلاسیکی موسیقی سے زیادہ عام فہم اور عوام میں زیادہ مقبول ہے۔ اس موسیقی میں ہلکے پھلکے گیت، لوک دھنیں، علاقائی دھنیں، شادی بیاہ کے گیت، منظوم، لوک داستانیں شامل ہیں مثلا" ٭ سسی پنوں ٭ ہیر وارث شاہ ٭ سوہنی مہیوال ٭ یوسف زلیخا ٭ سیف الملوک ٭ مرزا صاحباں ٭ برآں ٭ پنجابی ماہیے ٭ سلطان باہو کے دوہے ٭ بابا فرید ٭ شاہ حسین ٭ خواجہ غلام فرید ٭ بابا بلہ شاہ ٭ بلہ شاہ کی کافیاں اور دوہڑے

نیم کلاسیکی موسیقی
                                               

نیم کلاسیکی موسیقی

کلاسیکی موسیقی کے بعد نیم کلاسیکی موسیقی کا درجہ ہے۔ یعنی یہ کلاسیکی موسیقی کے بعد دوسرے نمبر پہ آتی ہے۔ اس میں دھرپت اور خیال جیسی مشکل گائکی بہ نسبت آسان اور عام فہم گائکی کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں ٹھمری، دادرا، کجری، ہوری، غزل اور گیت وغیرہ کی اصناف گائ جاتی ہیں۔

پیش کار موسیقی
                                               

پیش کار موسیقی

مُحصِّلِ سِجِل، موسیقی کی صنعت میں کام کارنے والے ایسے شخص کو کہتے ہیں، جو کسی گلوکار کی موسیقی کو سِجِل یا record کرتا ہو؛ مثال کے طور پر سجل مخطاط صوت کی صورت میں؛ اور ساتھ ہی اس کے فنی معیار کی نگرانی اور دیگر لوازمات کا خیال رکھتا ہو؛ اسی وجہ سے اس شخصیت کو مُحَصِّل یا producer کہا جاتا ہے۔

ہم نوائی
                                               

ہم نوائی

مغربی کلاسیکی موسیقی میں ہم نوائی یورپی ہمسرائی کے مخصوص طرز کا نام ہے۔ 16 ویں صدی ء میں گیتی ناٹک کے لیے ہمسرائی ہوتی تھی اسے ہم نوائی کہتے تھے۔ اس کی ترقی یافتہ شکل اتنی دلکش ہو گئی کہ اوپرا ناٹک کے علاوہ آزادانہ طور پر بھی اس کا استعمال ہونے لگا۔ لہٰذا یہ اب ہمسرائی کا ایک آزاد طرز ہے ۔

ہندوستانی کلاسیکی موسیقی
                                               

ہندوستانی کلاسیکی موسیقی

کلاسیکی موسیقی وہ موسیقی ہے جو صدیوں سے بر صغیر میں مروج ہے اور جس میں گائکی کا وہ استعمال ہوتا ہے جہاں چار متوں، دس ٹھاٹوں اور دھروپد سے لے کر خیال ، ٹپہ اور ترانہ وغیرہ کی اصناف گائی جاتی ہیں۔

ہپ ہاپ موسیقی
                                               

ہپ ہاپ موسیقی

ہپ ہاپ موسیقی کی ایک صنف ہے جسے محض ہپ ہاپ یا ریپ موسیقی بھی کہتے ہیں۔ دیسی ہپ ہاپ ہپ ہاپ موسیقی کی ایک صنف ہے جسے بوہیمیا ریپر نے ایجاد کیا۔