Back

ⓘ اقوام متحدہ. 25 اپریل، 1945ء سے 26 جون، 1945ء تک سان فرانسسکو، امریکا میں پچاس ملکوں کے نمائندوں کی ایک کانفرس منعقد ہوئی۔ اس کانفرس میں ایک بین الاقوامی ادارے ..



                                               

اردن میں موجود شامی مہاجرین کے کیمپ

یہ کیمپ شام کی خانہ جنگی سے بچ کے آنے والے چودہ لاکھ شامی پناہ گزینوں کی آمد شامی کے بعد اردن میں تعمیر کیے گئے تھے۔ اردن میں شامی پناہ گزینوں کے لیے پانچ کیمپ قاءم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تین سرکاری جبکہ باقی عارضی ہیں۔ تاہم، صرف چھ لاکھ پچاس ہزار مہاجرین اقوام متحدہ کے پاس رجسٹرڈ ہیں اور ان میں سے قریبا 90 فیصد مہاجرین ان کیمپوں کے بجاءے قریب کے شہروں اور قصبوں میں رہتے ہیں۔

                                               

سیونانتی تھانیتھیرن

تھننیتھیرن نے سیاسی انتخابات میں خواتین امیدواروں کی تشہیر کرکے اپنے سیاسی کام کا آغاز کیا۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ، اقوام متحدہ کے لیے کام کیا ، یونیورسٹی میں پڑھایا اور ایک رسالہ چلایا۔ انہوں نے ایجنڈا 21 پر "، شہروں ، افراتفری اور تخلیقی صلاحیتوں: مواصلات کے لیے ایک ماخذ کتاب" ، "شہر" ، شہریوں اور تہذیبوں: اچھی شہری حکمرانی کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات "پر بھی شریک کتاب لکھی اور ان میں ترمیم کی۔ اور ایجنڈا برائے عمل: بہتر شہروں کے لیے ایکشن ۔ جنسی اور تولیدی صحت اور حقوق پر ایک کتاب کے لیے تحقیق کرتے ہوئے ، انہوں نے ملائشیا میں اس موضوع پر معلومات کی کمی کا پتہ لگایا اور م ...

                                               

منیرہ شعبان

شعبان کی عمر تھی جب انہوں نےنرسنگ پڑھنی شروع کی۔ بعد ازاں ، وہ دائی وائیچر میں مہارت حاصل کرتی تھیں۔ انہوں نے لندن میں اپنی تعلیم جاری رکھی۔ جب وہ اردن واپس آئیں تو انہوں نے ملک میں خاندانی منصوبہ بندی کی تعلیم کا آغاز کیا۔ انہوں نے نئی دائیوں کے لیے ایک نصابی کتاب مشترکہ لکھی ، دوسروں کو تربیت دی اور دائیوں کے متعلق لیکچر دیے۔ اس نے دائیوں کے لیے اخلاقیات تیار کرنے میں بھی مدد کی۔ شعبان ، پیار سے ماما منیرہ کے نام سے جانی جاتی ہیں وہ زاتاری مہاجر کیمپ میں کام کرنے والی پہلی دایہ تھیں۔انہوں نے UNFPA مشن پر اردن کی صحت سے متعلق امداد کے ذریعے کام کیا۔ 2014 میں ، انہوں نے اس وقت کے جنرل سکری ...

                                               

ضجة أمانة

ضجة أمانة گھانا عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کی پاپولیشن فنڈ کے اندر موجود ایک سابق عہدیدار ہیں ،,یو این ایف پی اے نے "HIV کے پھیلاؤ کو نمایاں طور پر کم کرنے کے لیے پہلی طرز عمل میں تبدیلی کی مہم کے پیچھے انہوں نے محرک قوت "ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔"اس مہم کو یوگنڈا انفارمیشن ، ایجوکیشن اینڈ کمیونیکیشن کمپین یا ہیلتھ ایجوکیشن کمپین کہا گیا تھا اور ضجة أمانة 1987 اور 1990 کے درمیان اس کی محرک تھیں۔وہ جان گئی کہ یوگنڈا کے نامور گلوکارہ فیلی لوٹایا کو ایڈز تھا۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مواصلات کی مہم میں استعمال کیا گیا تھا کہ "ایڈز کا سامنا ہے"۔ان کے اور لٹاؤس کے کام کا انکشاف ٹی وی پرو ...

                                               

سرگئی لاوروف

                                               

انسانی ترقی (معاشیات)

انسانی ترقی ایک ایسا عمل ہے جس کی خصوصیات مادی حالات کی تغیر سے ہوتی ہے۔ یہ شرائط ضرورتوں اور خواہشات کی تکمیل کے امکانات کو متاثر کرتی ہیں۔ وہ ہر فرد کی جسمانی اور نفسیاتی، حیاتیاتی اور ثقافتی، انفرادی اور معاشرتی صلاحیتوں کو بھی دریافت کرتے ہیں اور ان کا ادراک کرتے ہیں۔ یہ سائنس کا نام بھی ہے جو یہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ کس طرح اور کیوں تمام عمر اور حالات کے لوگ وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں یا ایک ہی رہتے ہیں۔ اس میں انسانی حالت کا مطالعہ شامل ہے جس میں اس کی بنیادی صلاحیت موجود ہے۔ عدم مساوات سے متعلق انسانی ترقی اشاریہ؛ اقوام متحدہ کے ذریعہ انسانی ترقی میں حقیقی پیش رفت کی پیمائش کے ا ...

اقوام متحدہ
                                     

ⓘ اقوام متحدہ

25 اپریل، 1945ء سے 26 جون، 1945ء تک سان فرانسسکو، امریکا میں پچاس ملکوں کے نمائندوں کی ایک کانفرس منعقد ہوئی۔ اس کانفرس میں ایک بین الاقوامی ادارے کے قیام پر غور کیا گیا۔ چنانچہ اقوام متحدہ یا United Nations کا منشور یا چارٹر مرتب کیا گیا۔ لیکن اقوام متحدہ 24 اکتوبر، 1945ء میں معرض وجود میں آئی۔

اقوام متحدہ یا United Nations Organisation کا نام امریکا کے سابق صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے تجویز کیا تھا۔

                                     

1. منشور اور مقاصد

اس کے چارٹر کی تمہید میں لکھا ہے کہ

  • ایسے حالات پیدا کریں گے کہ عہد ناموں اور بین الاقوامی آئین کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو نبھایا جائے۔ آزادی کی ایک وسیع فضا میں اجتماعی ترقی کی رفتار بڑھے اور زندگی کا معیار بلند ہو۔
  • انسانوں کے بنیادی حقوق پر دوبارہ ایمان لائیں گے اور انسانی اقدار کی عزت اور قدرومنزلت کریں گے۔
  • مرد اور عورت کے حقوق برابر ہوں گے۔ اور چھوٹی بڑی قوموں کے حقوق برابر ہوں گے۔
  • ہم اقوام متحدہ کے لوگوں نے ارادہ کیا ہے کہ آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے بچائیں گے۔
لہذا
  • تمام اقوام عالم اقتصادی اور اجتماعی ترقی کی خاطر بین الاقوامی ذرائع اختیار کریں۔
  • یہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے رواداری اختیار کریں۔
  • بین الاقوامی امن اور تحفظ کی خاطر اپنی طاقت متحد کریں۔ نیز اصولوں اور روایتوں کو قبول کر سکیں اس بات کا یقین دلائیں کی مشترکہ مفاد کے سوا کبھی طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔
  • ہمسایوں سے پر امن زندگی بسر کریں۔
                                     

1.1. منشور اور مقاصد مقاصد

اقوام متحدہ کی شق نمبر 1 کے تحت اقوام متحدہ کے مقاصد درج ذیل ہیں۔

  • ایک ایسا مرکز پیدا کرنا جس کے ذریعے قومیں رابطہ عمل پیدا کر کے ان مشترکہ مقاصد کو حاصل کر سکیں۔
  • قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو بڑھانا۔
  • آرٹیکل نمبر 2 کے تحت تمام رکن ممالک کو مرتبہ برابری کی بنیاد پر ہے۔
  • مشترکہ مساعی سے بین الاقوامی امن اور تحفظ قائم کرنا۔
  • بین الاقوامی اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور انسانوں کو بہتری سے متعلق گتھیوں کو سلجھانے کی خاطر بین الاقوامی تعاون پیدا کرنا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے لیے لوگوں کے دلوں میں عزت پیدا کرنا۔
                                     

2. رکنیت

ہر امن پسند ملک جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی شرائط تسلیم کرے اور ادارہ کی نظر میں وہ ملک ان شرائط کو پورا کر سکے اور اقوام متحدہ کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے تیار ہو برابری کی بنیاد پر اقوام متحدہ کا رکن بن سکتا ہے۔ شروع میں اس کے صرف 51 ممبر تھے۔ بعد میں بڑھتے گئے۔ سیکورٹی کونسل یا سلامتی کونسل کی سفارش پر جنرل اسمبلی اراکین کو معطل یا خارج کر سکتی ہے۔ اور اگر کوئی رکن چارٹر کی مسلسل خلاف ورزی کرے اسے خارج کیا جا سکتا ہے۔ سلامتی کونسل معطل شدہ اراکین کے حقوق رکنیت کو بحال کر سکتی ہے۔ اس وقت اس کے ارکان ممالک کی تعداد 193 ہے۔ تفصیلی فہرست کے لیے دیکھیے: اقوام متحدہ کے رکن ممالک۔

                                     

3. اعضاء

اقوام متحدہ کے 6 اعضاء ہیں

  • سرپرستی کونسل
  • سلامتی کونسل
  • جنرل اسمبلی
  • سیکریٹریٹ
  • اقتصادی و سماجی کونسل
  • بین الاقوامی عدالت انصاف

سلامتی کونسل کی کمیٹیاں

1- ملٹری اسٹاف کمیٹی۔ 2-تخفیف اسلحہ کمیٹی۔ 3-داخلہ کمیٹی۔ 4-ماہرین کی کمیٹی۔ 5-اجتماعی تدابیر کمیٹی۔

                                     

3.1. اعضاء جنرل اسمبلی

جنرل اسمبلی تمام رکن ممالک پر مشتمل ہوتی ہے۔ ہر رکن ملک اسمبلی میں زیادہ سے زیادہ پانچ نمائندے بھیج سکتا ہے۔ ایسے نمائندوں کا انتخاب ملک خود کرتا ہے۔ ہر رکن ملک کو صرف ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔

جنرل اسمبلی کا معمول کا اجلاس سال میں ایک دفعہ ماہ ستمبر کے تیسرے منگل کو شروع ہوتا ہے، تاہم اگر سلامتی کونسل چاہے یا اقوام متحدہ کے اراکین کی اکثریت کہے تو جنرل اسمبلی کا خاص اجلاس کسی اور وقت میں بھی بلایا جا سکتا ہے۔

                                     

3.2. اعضاء کمیٹیاں

جنرل اسمبلی کا کام سر انجام دینے کے لیے چھ کمیٹیاں بنائی گئیں ہیں۔ ان کمیٹیوں میں نمائندگی کا حق ہر ممبر ملک کو حاصل ہے۔

  • چوتھی کمیٹی تولیتی معاملات کے متعلق ہے جس میں غیر مختار علاقوں کے معاملات بھی شامل ہیں۔
  • چھٹی کمیٹی قانون سے متعلق ہے۔
  • پانچویں کمیٹی انتظامی معاملات اور بجٹ کے متعلق ہے۔
  • پہلی کمیٹی تحفظاتی اور سیاسی معاملات سے متعلق ہے۔ ہتھیاروں میں تخفیف کا معاملہ بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ اس کی مزید امداد کے لیے ایک خصوصی سیاسی کمیٹی بھی ہے۔
  • تیسری کمیٹی سماجی انسانی اور ثقافتی معاملات کے بارے میں ہے۔
  • دوسری کمیٹی اقتصادی اور مالیاتی معاملات کے متعلق ہے۔

ان کے علاوہ ایک جنرل اسمبلی کے پریذیڈنٹ، 17 وائس پریذیڈنٹ اور بڑی کمیٹی کے 6 ارکان پر مشتمل ہے جن کا انتخاب جنرل اسمبلی کرتی ہے۔ جنرل کمیٹی کا اجلاس اسمبلی کے کام کا جائزہ لینے اور اسے بخوبی سر انجام دینے کے لیے اکثر منعقد ہوتا ہے۔ جنرل اسمبلی کی امداد کے لیے مزید کئی کمیٹیاں بھی ہیں۔ جنرل اسمبلی اکثر اوقات بہ وقت ضرورت ہنگامی کمیٹیاں بھی مقرر کرتی ہے۔ مثلاً امبلی نے دسمبر 1948ء میں کوریا کے لیے اقوام متحدہ کا کمیشن مقرر کیا۔ اقوام متحدہ نے مصالحتی کمیشن برائے فلسطین مقرر کیا۔ تمام کمیٹیوں کی سفارشات جنرل اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔



                                     

3.3. اعضاء سلامتی کونسل

سلامتی کونسل یا سکیورٹی کونسل اقوام متحدہ کا سب سے اہم عضو ہے اس کے کل پندرہ ارکان ہوتے ہیں، جن میں سے پانچ مستقل ارکان جو فرانس، روس، برطانیہ، چین اور امریکا ہیں اور ان کے پاس کسی بھی معاملہ میں راے شماری کو تنہا رد یعنی ویٹو کرنے کا حق حاصل ہے۔

ان کے علاوہ اس کے دس غیر مستقل اراکین بھی ہیں جن کو جنرل اسمبلی دو سال کے لیے منتخب کرتی ہے۔ انھیں فوری طور پر دوبارہ منتخب نہیں کیا جاسکتا۔

                                     

3.4. اعضاء سلامتی کونسل کے فرائض اور اختیارات

  • سلامتی کونسل کی کارروائی ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ اس لیے رکن ملک کا ایک نمائندہ ہر وقت اقوام متحدہ کے ہیڈ کواٹرز میں موجود رہتا ہے۔ سلامتی کونسل جہاں چاہے اپنا اجلاس فورا منعقد کر سکتی ہے۔
  • فوجی عملے کی کمیٹی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے چیف آپ سٹاف یا ان کے نمائندوں پر مشتمل ہوتی ہے۔
  • بین الاقوامی تنازعوں کو سلجھانے کے بارے میں منصوبے تیار کرنا۔
  • کسی ایسے جھگڑے یا موضوع کی تفشیش کرنا جو بین الاقوامی نزاع پیدا کر سکتا ہو
  • اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق دنیا بھر میں امن اور سلامتی قائم رکھنا
  • سلامتی کونسل اقوام متحدہ کے تمام اراکین کی طرف سے کارروائی کرتی ہے۔ یہ سب اراکان سلامتی کونسل کے فیصلوں کی تعمیل میں ہامی بھرتے ہیں اور اس کی درخواست پر بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے مسلح فوجیں یا دیگر مناسب اقدام کرتے ہیں۔
                                     

3.5. اعضاء سلامتی کونسل کی کمیٹیاں

1- ملٹری اسٹاف کمیٹی۔ 2-تخفیف اسلحہ کمیٹی۔ 3-داخلہ کمیٹی۔ 4-ماہرین کی کمیٹی۔ 5-اجتماعی تدابیر کمیٹی۔

                                     

3.6. اعضاء اکنامک اور سوشل کونسل

اس کے 54 اراکین ہیں جس میں سے 18 ممبروں کو جنرل اسمبلی ہر بار باری 3، 3 سال لے لیے منتخب کرتی ہے۔ جنرل اسمبلی کے زیر انتظام یہ کونسل اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی سرگرمیوں کی ذمہ دار ہے۔

اس کونسل میں ہر فیصلہ محض کثرت رائے سے کیا جاتا ہے۔ یہ رکن کا ایک ووٹ ہوتا ہے۔ یہ کونسل کمیشنوں اور کمیٹیوں کے ذریعے کام کرتی ہے۔

اس کونسل کے کمیشنوں میں درج ذیل کمیشن شامل ہیں۔

  • آبادی سے متعلق کمیشن
  • رسل اور مواصلات سے متعلق کمیشن
  • جنوبی امریکا کے لیے اقتصادی کمیشن
  • خواتین کے حقوق سے متعلق کمیشن
  • یورپ کے لیے اقتصادی کمیشن
  • ان کے علاوہ تین علاقہ واری کمیشن بھی موجودہ ہیں۔
  • انسانی حقوق سے متعلق کمیشن
  • شماریات سے متعلق کمیشن
  • ایشیا اور مشرق بعید کے لیے اقتصادی کمیشن
  • سماجی ترقی سے متعلق کمیشن
  • اقتصادیات، روزگار اور ترقی سے متعلق کمیشن
  • سرکاری خزانے سے متعلق کمیشن
  • منشی ادویات سے متعلق کمیشن


                                     

3.7. اعضاء ٹرسٹی شپ کونسل

اقوام متحدہ نے ایک بین الاقوامی تولیتی نظام قائم کیا تاکہ ان علاقوں کی نگرانی اور بندوبست کا انتظام کرے جو جداگانہ تولیتی معاہدوں کے ذریعہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی آ گئے۔

تولیتی نظام کا مقصد بین الاقوامی امن و امان اور حفاظت کو ترویض کرنا۔ تولیتی علاقی جات کے باشندوں کی ترقی کا خیال رکھنا تا کہ وہ خود مختاری اور آزادی حاصل کر سکیں۔

تولیتی کانفرس کا فرض ہے کہ تولیتی علاقہ جات کے باشندوں کی سیاسی، اقتصادی، سماجی اور تعلیمی ترقی کے بارے میں استفسار نامہ مرتب کرے جس کی بنا پر انتظام کرنے والی حکومتیں سالانہ رپورٹ تیار کریں۔ اس کے ممبروں میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے علاوہ ٹرسٹ علاقوں کا انتظام کرنے والے ممالک شامل ہوتے ہیں۔

                                     

3.8. اعضاء بین الاقوامی عدالت

بین الاقوامی عدالت کا صدر مقام شہر ہیگ واقع نیدر لینڈز ہالینڈ ہے۔ یہ عدالت اقوام متحدہ کا سب سے بڑا قانونی ادارہ ہے۔ تمام ملک جنہوں نے آئین عدالت کے منشور پر دستخط کیے، جس مقدمے کو چاہیں اس عدالت میں پیش کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں خود بھی سلامتی کونسل قانونی تنازعے عدالت بھیج سکتی ہے۔

بین الا قوامی عدالت 15 ججوں پر مشتمل ہے۔ عدالت کی ان ارکان کو جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل آزاد رائے شماری کے زریعی نو سال کے لیے منتخب کرتی ہے۔ جج اپنی ذاتی قابلیت کی بنا پر منتخب ہوتا ہے۔ تاہم یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ اہم قانونی نظام کی نمائندگی ہو جائے۔ یاد رہے کہ ایک ہی ملک کے دو جج بیک وقت منتخب نہیں ہو سکتے۔

                                     

3.9. اعضاء سیکریٹریٹ

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے سب سے بڑے ناظم امور کی حثیت سے کام کرتا ہے۔ سلامتی کونسل کی سفارش پر جنرل اسمبلی سیکٹری جنرل منتخب کرتی ہے۔ سیکٹری جنرل اسمبلی کو ایک سالانہ رپورٹ پیش کرتا ہے اور اسے حق حاصل ہے کہ اپنا عملہ خود نامزد کرے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹریٹ میں مندرجہ ذیل دفاتر شامل ہیں۔

مندرجہ ذیل امدادی اداروں میں بھی اقوام متحدہ کا عملہ کام کرتا ہے۔

وہ ادارے جنہیں جنرل اسمبلی یا اقتصادی کونسل قائم کرے

  • ترقیاتی پروگرام UNDP
  • انکٹاڈ UNCTAD
  • یونیسف unicef اس کا صدر دفتر ینو یارک میں ہے۔
  • اقتصادی ترقی کی تنظیم UNIDO
  • مہاجرین کا کمیشن UNRWA
                                               

اچمی

لوگ اچمی یا کھڈمونی فارسی نسل کا ایک نسلی گروہ ہیں جو جنوب ایران ، یعنی فارس اور کرمان صوبوں کے جنوب ، صوبہ بوشہر کا مشرقی حصہ اور صوبہ ہرمزگان کے بیشتر حصوں میں رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ، ان میں سے بیشتر کئی سالوں سے خلیج فارسی ممالک ، جیسے متحدہ عرب امارات ، بحرین ، کویت ، قطر اور عمان میں مقیم ہیں اور انہیں دیسی سمجھا جاتا ہے۔ ان میں بیشتر سنی اور اقلیت شیعہ بھی نظر آتے ہیں ، یہ لوگ زبان اچمی بولتے ہیں جو قدیم فارسی کے قریب ہے۔

Free and no ads
no need to download or install

Pino - logical board game which is based on tactics and strategy. In general this is a remix of chess, checkers and corners. The game develops imagination, concentration, teaches how to solve tasks, plan their own actions and of course to think logically. It does not matter how much pieces you have, the main thing is how they are placement!

online intellectual game →