Back

ⓘ جواہر لعل نہرو بھارت کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما اور تحریک آزادی ہند کے اہم کردار تھے۔ اپنی زندگی میں وہ پنڈت نہرو یا پنڈت جی کے نام ..




جواہر لعل نہرو
                                     

ⓘ جواہر لعل نہرو

جواہر لعل نہرو بھارت کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما اور تحریک آزادی ہند کے اہم کردار تھے۔ اپنی زندگی میں وہ پنڈت نہرو یا پنڈت جی کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔

                                     

1. بچپن

جواہر لعل نہرو 14 نومبر 1889ء کوبرطانوی ہند کے شہر الٰہ آباد میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد، موتی لال نہرو 1861–1931، جو ایک کشمیری پنڈت کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے، آزادی کی جدوجہد کے دوران میں انڈین نیشنل کانگریس کے صدر کے طور پر دو مرتبہ خدمات انجام دیں۔ اس کی والدہ، سوپرپنانی تھسو 1868–1938، جو لاہور میں آباد ایک معروف کشمیری برہمن کے خاندان سے آئی تھی، موتی لال کی دوسری بیوی تھی، پہلی بیوی بچے کی پیدائش کے بعد مر گئی۔ جواہر لال تین بچوں کی سب سے بڑا تھا، جن میں سے دو لڑکیاں تھیں۔ بڑی بہن، وشیا لکشیمی، بعد میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی خاتون صدر بن گئی۔ سب سے چھوٹی بہن، کرشنا ہیتھیسنگ، ایک معتبر مصنف بن گئی اور اس نے بھائی پر کئی کتابیں لکھی تھیں۔

                                     

2. سیاسی جدوجہد

1912 میں انہوں نے ایک مندوب کے طورپر بانکی پور کانگریس میں شرکت کی اور 1919 میں الہٰ آباد میں ہوم رول لیگ کے سکریٹری بن گئے۔ 1916 میں پہلی مرتبہ ان کی ملاقات گاندھی جی سے ہوئی اور ان سے انہیں کافی ترغیب حاصل ہوئی۔ انہوں نے 1920 میں اترپردیش کے ضلع پرتاپ گڑھ میں اولین کسان مارچ کا اہتمام کیا۔ انہیں 1920_1922 میں تحریک عدم تعاون کے سلسلے میں دو مرتبہ جیل بھیجا گیا۔

ستمبر 1923 میں پنڈت نہرو آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری مقرر کیے گئے۔ انہوں نے 1926 میں اٹلی، سویٹزرلینڈ، انگلینڈ، بیلجیم، جرمنی اور روس کا دورہ کیا۔ بیلجیم میں انہوں نے برسلز میں انڈین نیشنل کانگریس کے سرکاری نمائندے کے طور پر دبی کچلی قوموں کی کانگریس میں شرکت کی۔ انہوں نے 1927 میں ماسکو میں اکتوبر کے سوشلسٹ انقلاب کی تقریبات کی دسویں سالگرہ میں بھی شرکت کی۔ اس سے قبل 1926 میں مدراس کانگریس میں، نہرو کانگریس کو آزادی کو بطور نصب العین اختیار کرنے کے لیے راغب کرنے میں کافی سرگرم رہے تھے۔ 1928 میں لکھنؤ میں سائمن کمیشن کے خلاف ایک جلوس کی قیادت کرتے ہوئے ان پر لاٹھی چارج ہوا۔ 29 اگست 1928 کو انہوں نے آل پارٹی کانگریس میں شرکت کی اور بھارتی آئینی اصلاحات کے سلسلے میں نہرو رپورٹ پر دستخط کرنے والوں میں ان کا بھی نام شامل تھا۔ یہ رپورٹ ان کے والد موتی لال نہرو کے نام سے موسوم تھی۔ اسی سال انہوں نے ’انڈیپینڈینس فار انڈیا لیگ‘ قائم کی جو بھارت کو برطانوی بالادستی سے مکمل طور پر علاحدہ کرنے کی حمایت کرتی تھی اور اس کے جنرل سکریٹری مقرر ہوئے۔

1929 میں پنڈت نہرو، انڈین نیشنل کانگریس کے لاہور اجلاس کے صدر منتخب ہوئے۔ اسی اجلاس میں ملک کے لیے مکمل آزادی کو بطور نصب العین اختیار کیا گیا۔ 1930-35 کے دوران، نمک ستیا گرہ اور کانگریس کے ذریعہ شروع کی گئی دیگر تحریکات کی پاداش میں انہیں کئی مرتبہ جیل بھیجا گیا۔ 14 فروری 1935 کو الموڑا جیل میں انہوں نے اپنی ’خودنوشت سوانح‘ مکمل کی۔ جیل سے باہر آنے کے بعد وہ اپنی علیل اہلیہ کی عیادت کے لیے سویٹزرلینڈ گئے اور فروری ۔ مارچ 1936 میں لندن کا دورہ کیا۔ جولائی 1938 میں وہ اسپین گئے جب ملک خانہ جنگی کے عہد سے گزر رہا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے آغاز سے فوراً پہلے انہوں نے چین کا بھی دورہ کیا۔

31 اکتوبر 1940کو پنڈنت نہرو کو بھارت کو زبردستی جنگ میں شامل کرنے کے خلاف احتجاج کے طور پر کیے گئے انفرادی ستیا گرہ کی پاداش میں گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں دسمبر 1941میں دیگر رہنماؤں کے ساتھ انہیں بھی رہا کر دیا گیا ۔ 7 اگست 1942 میں پنڈت نہرو نے بمبئی میں اے آئی سی کے اجلاس میں اپنی تاریخی ’بھارت چھوڑو‘ قرارداد پیش کی۔ 8 اگست 1942 کو انہیں دیگر رہنماؤں کے ساتھ گرفتار کرکے احمدنگر قلعہ لے جایا گیا ۔ یہ ان کی طویل ترین اور آخری گرفتاری تھی۔ مجموعی طور پر وہ نو مرتبہ جیل گئے۔ جنوری 1945 میں جیل سے رہا ہونے کے بعد انہوں نے آئی این اے کے ان افسروں اور اہل کاروں کے دفاع کے لیے ایک قانونی دفاعی محاذ قائم کیا جن پر ملک سے غداری کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ مارچ 1946میں پنڈت نہرو نے جنوب مشرقی ایشیا کا دورہ کیا۔ 6 جولائی 1946 کو وہ چوتھی مرتبہ کانگریس کے صدر منتخب ہوئے اور اس کے بعد مزید تین مدت کار یعنی 1951 سے 1952 تک کے لیے از سر نو منتخب ہوئے۔

                                     

3. نہرو اور بھارتی سیاست

وہ 1947ء سے 1964ء تک بھارت کے وزیر اعظم رہے۔ بھارت میں جمہوری نظام کو مستحکم کرنے میں ان کا کردار ہے۔ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے اور پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے ضمن میں وہ اتنے پرجوش نہ تھے۔

                                     

4. حوالہ جات

  • Autobiography:Toward freedom ، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس
  • Jawaharlal Nehru Edited by S. Gopal and Uma Iyengar جولائی 2003 The Essential Writings of Jawaharlal Nehru اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس ISBN 0-19-565324-6
  • Nehru: The Invention of India by Shashi Tharoor نومبر 2003 Arcade Books ISBN 1-55970-697-X
                                     
  • جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نئی دہلی بھارت میں واقع ایک سرکاری یونیورسٹی ہے یہ ملک کی مایہ ناز جامعات میں سے ہے اس جامعہ میں ہمہ قسم کے کورس دستیاب ہیں
  • جواہر لعل نہرو بندر گاہ انگریزی: Jawaharlal Nehru Port بھارت کا سب سے بڑا کنٹینر بندر گاہ ہے جسے نھایا شیوا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے یہ بندر گار ممبئی
  • جواہر لال نہرو اسٹیڈیم ہندی: जव हरल ल न हर स ट ड यम انگریزی: Jawaharlal Nehru Stadium نئی دہلی بھارت میں واقع کثیر القاصد کھیلوں کا اسٹیڈیم ہے Jawaharlal
  • جواہر لال نہرو اسٹیڈیم Jawaharlal Nehru Stadium ایک کثیر مقاصد اسٹیڈیم ہے جس میں 40 000 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے About JNS, Chennai World of
  • جواہر لال نہرو اسٹیڈیم Jawaharlal Nehru Stadium جسے مقامی طور پر کلور انٹرنیشنل اسٹیڈیم Kaloor International Stadium کہا جاتا ہے کوچی کیرلا بھارت
  • 14 اگست 1947ء میں آزادی کے بعد جواہر لعل نہرو نے بطور پہلے وزیراعظم بھارت کے دفتر سنبھالا اور پہلی نہرو وزارت کی تشکیل کے لیے پندرہ وزرا کا انتخاب کیا
  • کملا کول نہرو ہندی: कमल क ल न हर انگریزی: Kamala Kaul Nehru تحریک آزادی کی کارکن اور انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما جواہر لعل نہرو کی بیوی تھی جو بعد
  • جواہر لعل نہرو بھارتی وزیر اعظم الجامعۃ الاسلامیہ یونیورسٹی آف سٹراتھکلائڈ
  • ہے 1964ء میں جب جواہر لعل نہرو انتقال کرگئے اسی سال سے یہ تقریب شروع ہوئی 14 نومبر جواہر لعل نہرو کا یوم پیدائش ہے جوہر لعل نہرو بڑے ہی عالم شخصیت
  • انگریزی: Sarvepalli Gopal سروپلی گوپال بھارت کے ایک مقبول تاریخ دان تھے وہ رادھا کرشنا سوانح عمر اور جواہر لعل نہرو سوانح عمری کے مصنف تھے
  • لمبی ہونے کی وجہ سے ٹخنوں پر کپڑے میں سلوٹیں پڑیں یا خود ڈالی جائیں جواہر لعل نہرو محمد علی جناح اور لیاقت علی خان آل انڈیا مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی اجلاس